‘سابق سیکرٹری پٹرولیم شاہدخاقان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے’

قومی احتساب بیورو (نیب ) کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید مسلم لیگ ن کے سینئیر نائب صدر اور سابق وزیراعظم  شاہد خاقان عباسی کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔

قومی احتساب بیورو کے ذرائع کا کہناہے کہ عابد سعید نے اہم ثبوت نیب کے حوالے دئیے ہیں۔

واضح رہے کہ آج سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے گرفتار کر لیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق شاہد خاقان عباسی کو لاہور کے ٹھوکر نیاز بیگ ٹول پلازہ پر گرفتار کیا گیا۔

نیب نے رہنما مسلم لیگ ن کو ایل این جی کیس میں عدم تعاون پر گرفتار کیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے کیس میں پیش ہونے سے انکار کیا تھا۔

نیب ذرائع کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کو آخری موقع دیا گیا تھا اور وہ 11 بجے تک اسلام آباد میں ہی موجود تھے۔

ان کو نیب نے 10 بجے طلب کر رکھا تھا تاہم وہ جان بوجھ کر پیش نہ ہوئے۔

نیب ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کو پیش نہ ہونے پر گرفتار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کر لیا گیا

واضح رہے کہ  ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 25 اپریل کو قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی میں پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرادیا تھا۔

شاہد خاقان عباسی کے قریبی ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ انہوں نے نیب کے سوالات کے جوابات تیار کر لیے تھے جنہیں نیب افسران کو جمع  کرادیا گیاہے۔

ذرائع کے مطابق سوالنامہ میں شامل 22 سوالات کے جوابات پہلے ہی جمع کروا چکے ہیں تاہم جن سوالات کے جوابات کے لیے سرکاری ریکارڈ درکار تھا ان کا ریکارڈ ملنے کے بعد جواب  تیار کیے گئے ۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نہ  نیب کو مکمل جواب جمع کراسکے اور نہ ہی مکمل ریکارڈ دے سکے۔

یاد رہے شاہد خاقان نے 26مارچ کو بھی اسی کیس میں اپنا بیان نیب راولپنڈی میں جمع کرادیا تھا۔

اس سے قبل سابق وزیراعظم 19 فروری2019 کو ایل این جی اسکینڈل میں نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب محمد زبیر کی سربراہی میں چار رکنی ٹیم نے شاہد خاقان عباسی سے تفتیش کی تھی۔

تفتیشی ٹیم نے سابق وزیراعظم کو 70 سوالات پر مبنی سوالنانہ بھی سپرد کیا تھا اوران کا بیان بھی ریکارڈ کیا تھا۔

ایل این جی اسکینڈل میں تحقیقات کے لیے نیب نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کوبھی ریکارڈ سمیت گیارہ جنوری کو طلب کیا تھا جس میں مفتاح اسماعیل نے نیب کی جانب سے پوچھے گئے 30 سوالات کے جوابات جمع کرائے تھے۔

گزشتہ سال جون 2018 میں من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کے الزام میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزیراعظم سمیت دیگر کے خلاف تحقیقات کرنے کی منظوری دی تھی۔

سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں سابق وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے قطر کے ساتھ ایل این جی درآمد کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت پاکستان ہر سال قطر سے 3.75 ملین ٹن ایل این جی خریدے گا جو پاکستان کی قومی ضرورت کا کل 20 فیصد ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے اکتوبر 2018 میں ایل این جی اسکینڈل کیس دوبارہ کھولنے اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا جب کہ نیب کی جانب سے وزارت پٹرولیم کو خط لکھا گیا تھا جس میں متعلقہ وزارتوں سے ریکارڈ طلب کیا گیا تھا۔

ایل این جی کیس: شاہد خاقان عباسی نے نیب راولپنڈی میں بیان ریکارڈ کرادیا

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز