’نیب سے بچنا ہے تو پی ٹی آئی میں شامل ہو جاؤ‘


اسلام آباد: پاکستان کے سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے مشورہ دیا کہ جس نے نیب کے احتساب سے بچنا ہے وہ ایک پریس ریلیز جاری کرے کہ اس نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام’بریکنگ پوائنٹ ود مالک‘ میں بات کرتے ہوئے رؤف کلاسرا نے کہا کہ بادشاہ سلامت عمران خان کو کچھ نہ کہیں اور ان کے ساتھ ہمدردی جتائیں کیوں کہ مستقبل میں کوئی اللہ کا بندہ ان کا بھی احتساب کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاست دانوں سے زیادہ بیورکریٹس کرپٹ ہیں اور یہ لوگ ملک کے ساتھ مخلص نہیں، اگر اسلام آباد میں بیٹھا 22ویں گریڈ کا افسر کسی کے ساتھ ڈیل نہ کرے تو پاکستان میں کرپشن ہوہی نہیں سکتی۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ پاکستان میں چند ایماندار بیوروکریٹس بھی ہیں لیکن انہیں غلط کام سے انکار کی سزا دے کر راستے سے  ہٹا دیا جاتا ہے۔

سینئر صحافی نے کہا کہ ایل این جی کیس کی تفتیش ختم ہوچکی ہے کیوں کہ جو سوال و جواب بھیجے گئے ان سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی قطر سے کوئی نہ کوئی ڈیل ہوئی ہے اور حکمرانوں کو اس کیس میں کوئی دلچسپی نہیں۔

ان کا کہنا تھا شاہد خاقان عباسی کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے والے عابد سعید اگر ملک کے ساتھ اتنے ہی مخلص تھے تو قطر کے ساتھ معاہدے کی فائل پر دسختط نہ کرتے۔

انہوں نے کہا کہ جو بیوروکریٹس کرپشن میں ملوث ہیں ان کو حکومت نے بڑے بڑے عہدے دے رکھے ہیں۔

سینئر صحافی محمد مالک نے کہا کہ انرجی سیکٹر میں ہونے والی کرپشن دیکھ کر دل کرتا ہے کہ اپنی وفا داریاں تبدیل کر کے ان لوگوں کے ساتھ  جڑجائیں، ہماری زندگیاں بدلیں اور ہم بھی فراری شراری چلائیں ۔

پروگرام کے میزبان نے قطر سے ملنے والی ایل این جی کے معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا اگر انرجی سیکٹرمیں ہونے والے گھپلوں کی رقم نکلوا لی جائے تو بیرونی قرضہ ختم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس ملک کے پیڑولیم اور پاور سیکٹر کا احتساب کرے جس کے ذریعے پاکستان کے بہت مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

سینئر صحافی نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کے خلاف کیس میں نیب کے بنیاد ہی غلط ہے اور جو سوال سامنے آئے ہیں ان کا  اصل معاملے سے تعلق ہی نہیں لگتا۔

صحافی عامر متین کا کہنا تھا کہ قطر معاہدے سے متعلق نیب کے کیس میں اقبال زیڈ احمد کا کوئی ذکر ہی نہیں جن کے معاملات سب سے زیادہ خراب ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ عابد سعید ہیں جو وعدہ معاف گواہ بن گئے لیکن اگر یہی عابد سعید ایمانداری کا مظاہرہ کرتے تو کرپشن ہو ہی نہیں سکتی تھی۔

عامر متین نے کہا کہ اقبال زیڈ احمد کی جانب سے جھوٹے کاغذات جمع کرائے گئے لیکن وہ معاملہ دبا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب جن مسائل کی کھوج لگا رہا ہے وہ غیر متعلقہ ہو چکے ہیں کیوں کہ اصل کرپشن ٹرمینل کے معاہدوں میں ہوئی۔

صحافی نے کہا کہ سیاست دانوں سے زیادہ بیوروکریسی میں کرپشن ہے لیکن ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا، بڑے لوگوں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا ملک کی بڑی صنعتوں میں مافیاز بیٹھے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز