شہراقتدار کے سب سے بڑے اسپتال پمز کے مسائل کم نہ ہوسکے

نئے مالی سال میں  پمز اسپتال کے23 ارب روپے کے 21 منصوبوں میں سے صرف 5کے لیے محض ایک 1 ارب 48 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں

اسلام آباد: وفاقی حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود بھی شہراقتدار کے سب سے بڑے اسپتال پمز کے مسائل کم نہ ہوسکے،کئی ماہ سے بند انٹرنل کولنگ سسٹم کی خرابی کے باعث اسپتال میں آنے والے مریض بیہوش ہونے لگے مگر انتظامیہ تاحال کوئی حل نہ تلاش کرسکی۔ 

پمز اسپتال کے متعدد شعبوں میں ائرکنڈیشنڈ کی خرابی کا معاملہ گمبھیر ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث اسپتال میں حبس سے مریضوں کی حالت خراب ہونا معمول بن چکا ہے۔

آج شعبہ پتھالوجی میں خواتین کی لمبی قطار میں لگی خاتون بیہوش ہو گئی جسے فوری طور پر ایمرجنسی  منتقل کر دیا گیا۔ پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متبادل ذرائع سے لگائے گئے کولنگ سسٹم نے بھی کام نہیں کیا۔

اسپتال میں موجود مریضوں اور انکے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث متعدد ڈاکٹروں نے مریضوں کا معائنہ کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

پمز کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کولنگ سسٹم کو ناکارہ ہوئےایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے اور کئی بار شکایت کرنے کے باوجود انتظامیہ نے کولنگ سسٹم پر کوئی توجہ نہیں دی۔

او پی ڈی کے اطراف میں لگے پنکھوں سے کام چلایا جا رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کولنگ سسٹم کے ناکارہ ہونے کے ذمہ دار ملازم کو معطل کر دیا گیا ہےاوراس نظام کی مرمت کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

اس معاملے پر پمز کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ نے انوکھا موقف پیش کیا ہم نیوز کے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ کہ خاتون اسپتال کے کولنگ سسٹم ناکارہ ہونے سے بیہوش نہیں ہوئی کیونکہ اسپتالوں میں لوگوں کا بیہوش ہونا معمول کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پمز اسپتال میں چلنے والے پنکھوں سے درجہ حرارت بہتر ہے، کولنگ سسٹم کی بحالی کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں ، بہت جلد یہ نظام ٹھیک ہوکر کام کرنا شروع کردیگا۔

یہ بھی پڑھیے: اسٹنٹس کی عدم دستیابی:پمز اسلام آباد میں دل کے آپریشن بند

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز