خواجہ سرا کے قاتل کو سزائے موت سنا دی گئی

مریم نواز اور یوسف عباس کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14روز کی توسیع

پشاور کی مقامی عدالت نے خواجہ سرا علیشا قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم فضل گجر کو سزائے موت سنا دی ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  سعدیہ عندلیب کی عدالت میں 2016 میں قتل ہونے والے خواجہ سرا علیشا کے مقدمے کی کارروائی ہوئی۔ عدالت نے  جرم ثابت ہونے پر ملزم فضل گجر کو سزائے موت اور دوسرے ملزم رحمت اللہ بری کر دیا۔

خواجہ سرا علیشا کی طرف سے ایڈووکیٹ گل رحمان نے مقدمے کی پیروی کی ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں ایک اورخواجہ سرا کا قتل

خواجہ سراؤں کی تنظیم کے عہدیدارعلیشا کو مئی 2016 میں پشاور میں فائرنگ کرکے  قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے قتل میں ملوث دو ملزمان کو اسی ماہ گرفتار کرلیا تھا۔

علیشا کا قتل ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز اس وقت بنا جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال کی انتظامیہ نے زخمی علیشا کے ساتھ نارواسلوک کا مظاہرہ کیا ہے۔

چار گھنٹے تک علیشا کا علاج شروع نہ کیا جا سکا کیونکہ انتظامیہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ انہیں مردانہ وارڈ میں داخل کرنا ہے یا زنانہ میں تاہم بعد میں علیشا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں ہی دم توڑ گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز