خورشید شاہ کے خلاف اثاثے چھپانے کا الزام ، فریقین سے دستاویزی ثبوت طلب

فنڈز کم ملنے کی وجہ سے صوبے کی ترقی رک گئی، خورشید شاہ

فوٹو: ہم نیوز

سکھر:سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ نے پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے خلاف اثاثہ جات چھپانےسے متعلق  درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیاہے، عدالت نے درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے فریقین  سے دستاویزی ثبوت طلب کرلیا ۔

سندھ ہائیکورٹ کے سینیئر جسٹس منظور عبدالمالک گدی نے فیصلہ سناتے ہوئے دونوں فریقین کو ایک ہفتے کے اندردستاویزات جمع کرنے کا حکم دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما طاہر شاہ نے خورشید شاہ کی الیکشن 2018میں کامیابی کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے ۔

درخواست گزار نے خورشید شاہ پر الزام عائد کیا ہے کہ سید خورشید شاہ نے شاہ فوڈ انڈسٹری اپنے نامزدگی فارم میں ظاہر نہیں کی،انہوں  نے 2011ع میں  یہ انڈسٹری خرید کی اور  2017 میں مالکانہ حقوق  حاصل کیے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ  2018 کے الیکشن میں خورشید شاہ نے شاہ فوڈ انڈسٹری  اپنے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کی، جان بوجھ کر اثاثے چھپانے کے جرم میں خورشید شاہ کی قومی اسمبلی کی رکنیت خارج کی جائے اور انہیں الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے: پی اے آر سی:پیپلزپارٹی دور کے 269 ملازمین کی بھرتی غیر قانونی قرار

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز