رہبر کمیٹی کا تیسرا اجلاس، سینسرشپ کے خلاف پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ


 آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں پچیس جولائی کو ہونے والے اپوزیشن کے احتجاج کو حتمی شکل دینے کے امور پر تبادلہ خیال کے بعد اور سینسر شپ کے خلاف پٹیشن دائر رکنے اور گرفتاریوں کے خلاف نیب دفتر کے سامنے احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔

رہبر کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن رہنماؤں کی ممکنہ طورپر  مزید گرفتاریوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پربھی  غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ رہبر کمیٹی کے اراکین 25 جولائی کو پشاور میں احتجاج میں شرکت کریں گے ،بلاول بھٹو کراچی اور شہباز شریف لاہور میں احتجاج کی قیادت کریں گے۔

کمیٹی کے کنوینئیر اکرم خان درانی کی زیر صدارت اجلاس میں مسلم لیگ ن کی طرف سے احسن اقبال اور سردار ایاز صادق ۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے عثمان خان کاکڑ ، نیشنل پارٹی کےطاہر بزنجو اور پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے نامزد ممبران فرحت اللہ بابراور سید نیئر حسین بخاری سمیت دیگر شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں اکرم خان درانی نے کہا کہ آج رہبر کمیٹی کا تیسرا اجلاس ہوا جس میں سینیٹ کے انتخابات پر غور کیا ہے،اور اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹائے جانے اور نئے چئیرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے ہماری تعداد پوری ہے۔

انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے قائدین کی  گرفتاریوں پر بھی غور کیا اور اب تک ہونے والی تمام سیاسی گرفتاروں کی  مذمت کی ۔

جمیعت علمائے اسلام کے رہنما اکرم خان درانی نے کہا کہ صحافی آج مظلوم ہیں،ہم نے مارشل لاء بھی دیکھا ہے مگر ایسی سینسر شپ نہیں دیکھی،انہوں نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ اپوزیشن کی طرف سے سینسرشپ کے خلاف سپریم کورٹ  میں پٹیشن بھی دائر کروا رہے ہیں۔

اکرم درانی نے کہا کہ 25 جولائی کے دن سب کو معلوم ہو جائے گا کہ عوام کس کے ساتھ ہے؟

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کا امریکہ کا دورہ سب دیکھ رہے ہیں،وزیراعظم عمران خان کے  پاکستان ہاؤس میں رہنے کی وجہ بچت نہیں کچھ اور ہے۔ پہلی بار کسی وزیر اعظم نے بیرون ملک ایسی تقریر کی اور اپوزیشن رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

رہبر کمیٹی کے کنوینئیر اکرم خان درانی نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں دھاندلی کے ثبوت آ جائیں گے، صرف پانچ سیٹیں انکے(حکومت) حصے میں آئی ہیں، اپوزیشن جماعتوں  نے فوج کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر تعینات نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اکرم درانی نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ ن کے سینئیر نائب صدر شاہد خاقان عباسی رہبر کمیٹی کے رکن تھے،ان کی گرفتاری کے خلاف کمیٹی اراکین نیب دفتر کے سامنے جا کر احتجاج کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے: حزب اختلاف 9 جولائی کو چیئرمین سینیٹ کے خلاف قرارداد لائے گی

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز