جہانگیر ترین ایم کیوایم سے مذاکرات کیلئے آج بہادر آباد جائینگے

اس وقت کوئی عدم استحکام نہیں، جہانگیر ترین

کراچی پیکج پرحتمی مذاکرات آج متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کےمرکزبہادرآبادمیں ہونگے،جہانگیر خان ترین کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کاوفدآج ایم کیوایم کی  کے رہنماؤں سےملاقات کرےگا۔

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایاہے کہ پاکستان تحریک انصاف کااعلیٰ سطحی وفدآج جہانگیرترین کی قیادت میں کراچی میں ایم کیوایم کےمرکزنائن زیروپہنچے گاجہاں تحریک انصاف اورایم کیوایم کےدرمیان کراچی پیکج پر حتمی مذاکرات ہونگے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سےڈاکٹرخالدمقبول صدیقی وفدکی سربراہی کرینگے جبکہ جہانگیرترین کےہمراہ وفاقی وزیرعلی زیدی،حماداظہر،اسدعمراورسندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرفردوس شمیم نقوی ہونگے

ذرائع کے مطابق بہادرآبادمیں ہونےوالی ملاقات میں پی ٹی آئی اورایم کیوایم کےدرمیان کراچی پیکج پر بات چیت ہوگی۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت نے وزارت عظمی اور دیگر مواقع پر حکومت کا ساتھ دینے کے لیے اپنے مطالبات پیش  کیے تھے ج پر معاہدے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے اپنا وزن وفاق میں پی ٹی آئی کے پلڑے میں ڈالا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان وفاق میں حکومت سازی کے لیے معاملات 3اگست 2018 کو طے پاگئے تھے۔

اسلام آباد میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد نے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں ملاقات ک تھی۔ ایم کیو ایم کے وفد میں عامرخان، فیصل سبزواری، وسیم اختر اور کنور نوید جمیل شامل تھے۔

عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ’’ایم کیو ایم پاکستان سے مکمل طور پر اتحاد اور تحریری معاہدہ ہوگیا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا منشور مؤثر بلدیاتی نظام کو اہمیت دیتا ہے۔ ایسا نظام جو نام نہاد نہ ہو، ہم ایم کیو ایم کی عدالت میں بلدیاتی نظام پر اختیارات کے حوالے سے جو پٹیشن ہے اس کا بھی مکمل ساتھ دیں گے‘‘۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ ’’کراچی کی عوام نے بھرپور طریقے سے نکل کر ہمیں اور ایم کیو ایم کو ووٹ دیے۔ تاہم، ماضی میں کراچی کو نظر انداز کیا گیا اور مسائل پر توجہ نہیں دی گئی۔ کراچی کو خصوصی مالیاتی پیکج دیا جائے گا جس پر من وعن عمل ہوگا‘‘۔

ایم کیو ایم کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ’’جمہوریت کی مضبوطی کے لیے جو فیصلہ کیا یہ ملاقات اس کی ایک کڑی ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کا مینڈیٹ ہے۔ کراچی کی ترقی اور خوشحالی پاکستان کی ترقی ہے۔ ہم ملکر ساتھ چلیں گے۔ ہم نے سیاست سے زیادہ ملکی مفاد کو مد نظر رکھا‘‘۔

ایم کیو ایم پاکستان اور تحریک انصاف میں ہونے والے معاہدے کے مطابق کراچی کی مردم شماری کے حوالے سے قومی اسمبلی سے منظور شدہ قرارداد اور مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کرایا جائے گا، سندھ میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر کردہ پٹیشن میں تحریک انصاف ایم کیو ایم کی حمایت کرے گی۔

دونوں جماعتوں کے درمیان کیے گئے معاہدے کے مطابق کراچی آپریشن پر نظر ثانی کی جائے گی اور تمام شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی، کراچی میں تمام عہدوں پر تعیناتیاں میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی اور حیدرآباد میں بین الاقوامی طرز کی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق، سندھ کے شہری علاقوں کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان اور خصوصاً پانی کے مسائل کے لیے اسپیشل پیکج دیا جائے گا جب کہ خیبر پختونخوا کے طرز پر پولیس اصلاحات لائی جائیں گی، پولیس میں غیر سیاسی اور میرٹ پر تعیناتیاں کی جائیں گی۔

پی ٹی آئی اور ایم کیوایم ایک دوسرے کیخلاف بیانات نہ دینے پر متفق

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز