پاکستان تمباکو کمپنی نے مالی سال 2018-19 میں 103.5 ارب روپے کا ٹیکس جمع کروایا

پاکستان میں سگریٹ بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا آڈٹ شروع | humnews.pk

اسلام آباد: پاکستان تمباکو کمپنی نے مالی سال 2018-19 میں 103.5 ارب روپے کا ٹیکس جمع کروا دیا ہےجوکہ  پچھلے سال کی نسبت کمپنی کی جانب سے ملکی خزانے میں ٹیکس جمع کروانے میں 32 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔ 

اس بات کا اعلان پاکستان تمباکو کمپنی کے بورڈ آف ڈائر یکٹرز کے اجلاس میں کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مالی سال 2018-19 میں پاکستان تمباکوکمپنی نے ملکی خزانے میں فیڈرل ایکسا ئز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس کی مد میں 103.5 ارب روپے جمع کروائے ہیں۔ جو کہ کمپنی کی جانب سے 1947 سے لے کر اب تک کا سب سے زیادہ ایک سال میں ٹیکس جمع کروانے کا ریکارڈ ہے۔

مالی سال 2017-18 میں پاکستان تمباکو کمپنی کی جانب سے 78.4 ارب روپے ٹیکس جمع کروایا گیا تھا۔ اس طرح اس مالی سال میں 2017-18 کی نسبت ٹیکس جمع کروانے میں 32 فیصداضافہ ہوا ہے۔ بورڈ آف ڈائیر یکٹرز کے اجلاس میں شئیر ہولڈرز کو 13 روپے فی شیئر ڈیویڈنٹ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تمباکو کمپنی نے ’میڈ ان پاکستان‘ کے نام سیگریٹ برآمد کرنے کا پروجیکٹ شروع کیا ہے جس سے اگلے اٹھارہ سے چوبیس ماہ میں پچاس ملین ڈالر ملکی زرمبادلہ کی مد میں حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی پروگرام کے تحت سن 1981 سے لے کر اب تک پاکستان تمباکو کمپنی نے 78 ملین مفت پودے لگائے اور تقسیم کئے ہیں۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ حالیہ وفاقی بجٹ میں منظور کئے گئے مالی پالیسیوں سے ملک میں غیر قانونی سگریٹوں کی تجارت موجودہ 30 فیصد کے حجم سے زیادہ بڑھ سکتی ہے جس کی بڑھی وجہ ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 106.3 فیصد کا اضافہ ہے اور اس اضافہ کی وجہ سے قانونی اور غیر قانونی سگریٹ برآنڈ کی قیمتوں میں فرق 50 روپے سے زیادہ ہو چکا ہے۔

غیر قانونی مقامی سگریٹ کمپنیاں اس وقت نہ صرف مالی قوانین کا خلاف ورزیاں کر رہی ہیں بلکہ وزارت صحت کے سگریٹوں کی تشہیر سے متعلقہ قوانین کی بھی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سمگل سگریٹ کھلے عام فروخت ہو رہے ہیں جن پر نہ تو حکومت پاکستان کی مجوزہ60 فیصد کی ہیلتھ وارننگ موجود ہوتی ہر اور نہ ان پر وہ ٹیکس ادا کیا جاتا ہے۔

پاکستان تمباکو کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اکتوبر 2018 میں منظور کیے گئے سپلیمنٹری فنانس بل میں سگریٹ تیار کرنے والی کمپنیوں پر تمباکو کی تیاری کے مرحلہ پر تین سو روپے فی کلو کے حساب سے ٹیکس کا نفاذ کیا گیا تھا، جو کہ حالیہ بجٹ میں کم کر کے دس روپے فی کلو کر دیا گیا ہے۔

پا کستان تمباکو کمپنی کے مطابق تین سو روپے فی کلو ٹیکس کی پالیسی سے غیر قانونی تمباکو کی فروخت کی ڈاکومنٹیشن ہو رہی تھی اور اس پالیسی کی تبدیلی سے آنے والے ماہ میں حکومتی ٹیکس وصولی پر منفی اثرات مرتب ہو گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ غیر قانونی سگریٹوں کے خلاف کاروائی کرے اور قوانین پرسختی سے عمل درآمد کروائے تاکہ حکومت سالانہ پچاس ارب روپے کے نقصان سے بچ سکے۔

یہ بھی پڑھیے: ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا ہوگا، ٹیکسیشن کے بغیر کوئی ملک نہیں چل سکتا،شبر زیدی

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز