لاہور میں انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو ورکرز پر تشدد، 2افراد گرفتار

لاہور میں انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو ورکرزکو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، پولیس نے تشدد کے الزام میں سابق چیئرمین یونین کونسل سمیت 2افراد کو حراست میں لیکر مقدمہ درج کرلیا ہے۔

پولیس کے مطابق پولیو ورکر پر تشدد کا واقعہ شاد باغ کی یونین کونسل 15میں پیش آیا ہے۔ یوسی 15 میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے تھے، اس دوران سابق یوسی چئیرمین ملک شاہ نواز کی فیملی نے پولیو ورکرز پر تشدد کیا۔

پولیس نے مقدمہ درج کر کے سابق چیئرمین ملک شاہ کو حراست میں لے لیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق سابق چیئرمین ملک شاہ نواز سمیت تین افراد نے پولیو ٹیم کومبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کی طرف سے بتایا گیاہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر (ڈی ڈی او) برائے محکمہ صحت  ڈاکٹر اسد کی مدعیت میں مقدمہ درج کروایا گیا ہے۔

یاد رہے اس سے قبل رواں سال اپریل میں چمن کے علاقے سلطان زئی میں بھی  پولیو ٹیم پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں خاتون پولیو ورکر جاں بحق اور ایک زخمی ہو گئی تھی جسکے بعد  علاقے میں پولیو مہم معطل کردی گئی۔

اسسٹنٹ کمشنر چمن سید سمیع آغا اور مقامی پولیس کے مطابق چمن کے نواح میں پاک افغان سرحدی علاقے سلطان زئی میں موٹرسائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے خواتین ورکروں کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ سے 35 سالہ نسرین موقع پر جاں بحق جبکہ 24 سالہ رشیدہ شدید زخمی ہوگئی۔

ملزم واردات کے بعد فرار ہو گئے۔ حملے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والی ورکرز کو اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے چمن میں خاتون پولیو ورکرز پر فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کی رپورٹ بھی طلب کرلی تھی۔ ۔وزیراعلی جام کمال خان نے کہاتھا  کہ واقعہ میں ملوث عناصر کی گرفتاری اور پولیو ورکرز کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ خواتین پر حملہ صوبے کی روایات اور اسلامی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چمن:نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں خاتون پولیو ورکر جاں بحق

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز