حکومت کا دو سو ارب روپے کے سکوک بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے دو سو ارب روپے کے سکوک بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے  ، اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے آئندہ اجلاس میں سکوک بانڈز کے اجراء کی سمری منظوری کے لئے پیش کی جائے گی ۔

وزارت خزانہ کے ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا ہے کہ آج سیکرٹری وفاقی وزارت خزانہ نوید کامران بلوچ کی زیرصدارت اجلاس میں سکوک بانڈزکے اجراء کے معاملے کو حتمی شکل دی گئی۔

آئندہ  اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے  اجلاس میں سکوک بانڈزکے اجراء کی سمری پیش کی جائے گی ، منظوری کے بعد بانڈز کا اجراء کردیا جائے گا ۔

سکوک بانڈزکی رقم توانائی کے شعبے کے گردشی قرضوں پر خرچ کی جائے گی ۔ واضح رہے کہ  پاور سیکٹر کے لئے حکومت پہلے بھی دوسو ارب روپے کے سکوک بانڈزجاری کر چکی ہے ۔

اس سے قبل حکومت نے پاکستان پاور ہولڈنگ کمپنی کے ذریعے  200 ارب روپے مالیت کے اسکوک بانڈز جاری کرنے کا رواں سال فروری میں کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھاکہ گردشی قرض کو بتدریج ختم کرنے کے لیے اگلے 12 مہینے میں 600 ارب روپے مالیت کے اسکوک بانڈز جاری کئے جائیں گے۔ اسکوک بانڈز میں سرمایہ کاری کی معیاد 10 سال کے لیے ہو گی۔

’ اگلے 12 مہینے میں 600 ارب روپے مالیت کے اسکوک بانڈز جاری کئے جائیں گے‘

اسکوک بانڈز جاری کرنے سے مہنگے قرضے ادا کئے جا سکیں گے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق مہنگے قرضوں کی ادائیگی اور شرح سود میں کمی سے79 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ اس وقت مجموعی گردشی قرضہ  لگ بھگ  802 ارب روپے ہے۔ 604ارب روپے پاکستان پاور ہولڈنگ کے ذمے  واجب الادا ہیں۔

رواں سال فروری کے شروع میں سامنے آنے والی  موڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ  پاکستان نے اگلے مالی سال میں اسکوک اور یورو بانڈ ز کی مد میں ایک ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث درآمدی بل زیادہ رہے گا جو ملکی معیشت کے لیے مزید مشکلات کا سبب بنے گا۔

یہ بھی پڑھیے: حکومت کا 200 ارب روپے مالیت کے اسکوک بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز