پاکپتن اراضی کیس: نواز شریف سے تحقیقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

نواز شریف کو صحت کے حوالے سے سنگین خطرات لاحق

لاہور: پاکپتن اراضی کیس میں محکمہ انسداد بدعنوانی کی ٹیم نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے آج کوٹ لکھپت جیل میں پوچھ گچھ کی۔

ہم نیوز کے مطابق محکمہ انسداد بدعنوانی ساہیوال کی تین رکنی ٹیم نے سابق وزیراعظم سے ڈیڑھ گھنٹے تک پاکپتن اراضی کیس سے متعلق سوالات پوچھے۔

تحقیقاتی ٹیم نے نوازشریف سے سوال پوچھا کہ کیا انہوں نے بطور وزیراعلیٰ 1985 میں آٹھ کنال اراضی خواجہ قطب کو دی تھی؟

جواب میں قائد ن لیگ نے کہا کہ بہت پرانا معاملہ ہے، اس کی تفصیلات یاد نہیں۔

تحقیقاتی ٹیم نے یہ بھی دریافت کیا کہ کیا الاٹمنٹ کیلئے اخبار میں اشتہار دیا تھا اور کن بنیادوں پر زمین دی گئی؟

سابق وزیراعظم نے دوبارہ اپنی بات دہرائی کہ وہ تفصیلات بھول چکے ہیں، مگراس وقت تمام  قانونی تقاضے پورے کئے گئے تھے۔

نواز شریف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میں نے کبھی بھی اختیارات سے تجاوز نہیں کیا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر پاکستان کی خدمت کی۔

بعد ازاں محکمہ انسداد بدعنوانی کی ٹیم ان کا بیان ریکارڈ کر کے واپس روانہ ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں : پاکپتن اراضی کیس، جے آئی ٹی نے نواز شریف کو ذمہ دار قرار دے دیا

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے نواز شریف کو زمین کی منتقلی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

جے آئی ٹی کے سربراہ حسین اصغر نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ حجرہ شاہ مقیم اور دربار حافظ جمال کی زمین بھی دی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا تھا کہ یہ زمینیں ایک ہی دور میں نواز شریف نے دی تھیں، پہلی تفتیشی رپورٹ 2015 میں دی گئی جس میں وزیراعلیٰ پنجاب کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، بعد ازاں 2016 میں دوسری رپورٹ بنا کر وزیر اعلیٰ کا نام نکال دیا گیا۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز