نیب متحرک ہو گیا، بدعنوان عناصر سے اربوں روپے وصول

نیب ترمیمی آرڈیننس کا اطلاق1985 سے ہوگا، احتساب عدالت

فائل فوٹو

اسلام آباد: نیب بلوچستان نے بدعنوان عناصر سے 75 لاکھ کے لگ بھگ رقم وصول کر کے حکومت بلوچستان کے حوالے کر دی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو بلوچستان فرمان اللہ نے رقم کا چیک سیکرٹری خزانہ بلوچستان نورالحق بلوچ کے حوالے کیا۔

واضح رہے لوٹی گئی رقم محکم محنت و افرادی قوت کے سابق سیکرٹری اور محکمہ تعلیم کے استاد سے نیب کی تحقیقات اور عدالت کی منظوری سے پلی بارگین کی صورت میں وصول کی گئی۔

تمام قانونی ضابطے کی کاروائی کے بعد لوٹی گئی رقم کا چیک بلوچستان حکومت کے حوالے کر دیا گیاہے۔

اس سے قبل احتساب عدالت نے نوری آباد پاور کمپنی اور سندھ ٹرانسمیشن فنڈز میں خوردبرد کے معاملے میں ملوث ملزمان کی پلی بارگین درخواست منظور کرلی جس کے تحت 2.12 ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق ملزمان سید آصف محمود اور سید عارف علی چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی جانب سے پلی بارگینگ کی درخواست منظور ہونے کے بعد احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

جج احتساب عدالت نے ملزمان سے استفسار کیا کہ کیا وہ اپنی خوشی سے پلی بارگین کر رہے ہیں؟ ملزمان نے اثبات میں جواب دیا، نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دونوں ملزمان 2.12 ارب روپے دینے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سید آصف محمود اور سید عارف علی نے سندھ حکومت کے ساتھ مل کر ٹھیکوں میں خرد برد کی ہے۔

عدالت نے دونوں ملزمان کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی۔

نیب لاہور کا بھی بدعنوانی کے مقدمات میں ملزمان سے لوٹی گئی قومی دولت کی برآمدگی اور حکومتی خزانے میں واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور نے سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا، ملزم ڈاکٹر محمد اکرم اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کمرشلائزیشن کیس میں ایل ڈے اے افسران سے 10 کروڑ 73 لاکھ مالیت کی رقم متعلقہ حکام کے حوالے کی۔

اسی طرح یونیورسٹی آف سرگودھا کے انتظامی معاملات میں غبن کی گئی 5 کروڑ سے زائد مالیت کی رقم برآمدگی کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کو واپس کی گئی جو طلبہ کو لوٹائی جائے گی۔

سرگودھا یونیورسٹی کیس میں ملزمان نے آپسکی ملی بھگت سے لاہور اور منڈی بہائودین میں غیرقانونی کیمپس بنائے اور طلباء سے کروڑوں روپے وصول کئے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز