ضلع مظفر گڑھ میں دریائے سندھ اور دریائے چناب کے کٹاؤ سے تباہی

مظفرگڑھ: ضلع  لیہ اور ضلع مظفر گڑھ کی چاروں تحصیلوں کوٹ ادو، علی پور، جتوئی اور مظفر گڑھ میں دریائے سندھ اور دریائے چناب کے کٹاؤ نے تباہی مچادی ہے۔ 

اہل علاقہ کا کہناہے کہ  کئی سالوں سے دریائی کٹاؤ کے باعث ابتک ضلع کی ہزاروں ایکڑ اراضی دریابردہوچکی ہے۔ ضلع لیہ کے علاقوں نشیب، بیٹ سُمرا، کوٹ سلطان، جمن شاہ ، واڑہ سیہڑاں، اور نشیب کے کئی علاقوں میں دریائے سندھ میں کٹاؤ کی وجہ سے قابل کاشت زمینیں اور آبادیاں دریا برد ہورہی ہیں۔

تحصیل مظفرگڑھ کے علاقوں بیٹ دریائی،موضع جڑھ سمیت کئی بستیاں دریا برد ہوئی ہیں۔

اسی طرح  تحصیل کوٹ ادو میں احسان پور،بیٹ خادم والی سمیت مختلف بستیوں میں بدترین دریائی کٹاؤ جاری ہے جس کی وجہ سے کئی آبادیاں زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔  تحصیل جتوئی میں لنڈی پتافی،موضع رام پور سمیت ملحقہ بستیوں کی سینکڑوں ایکڑ اراضی دریائے سندھ کی نذر ہوگئی ہے۔

تحصیل علی پور میں قصبہ سیت پور اورکندائی  سمیت مختلف بستیاں اور ہزاروں ایکڑ اراضی اراضی دریا برد ہوگئی ہے۔ دریائی کٹاؤ کے باعث کپاس،چاول اور دیگر فصلیں بھی برباد ہوگئیں۔

محکمہ انہار کے حکام کا کہنا ہے کہ  سپربندوں اور مختلف ذرائع سے دریائی کٹاؤ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ دریاؤں کے اپنے روایتی راستوں سے ہٹ کر بہنے کے باعث دریائی کٹاؤ میں تیزی آئی ہے۔

حالیہ ہونے والی مون سون کی بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ محکمہ آبپاشی کا کہنا ہےکہ دریائے سندھ میں چشمہ بیراج کے مقام پر پانی کی آمد323065جبکہ پانی کا اخراج 311936 کیوسک ریکارڈ کی کیا گیا۔

اسی طرح  دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 282282 کیوسک جبکہ پانی کا اخراج 260582 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ۔ تونسہ بیراج کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب جاری  ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی کی مضافاتی بستیاں سیلابی ریلوں کی زد میں

متعلقہ خبریں