ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کا اسٹیٹ بینک سے اڑھائی ارب روپے واپس کرنے کا مطالبہ

کراچی : ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے جمعرات کے روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران  ایکسچینج  کمپنی ایسوسی ایشن کے نمائندوں  نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایکسچینج کمپنیوں کے آپریشنز بند کر کمرشل بینکوں کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔

ایکسچینج کمپنیزایسوسی ایشن کے صدر علاؤ الدین احمد کی سربراہی میں 11 رکنی وفد نے اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید عرفان علی شاہ سے ملاقات کی۔

وفد کے اراکین نے کہا کہ اگر ایکسچینج کمپنیاں بند کرنے سے ملک کو فائدہ ہوتا ہے تو وہ خود اپنے لائسنس منسوخ کرانےکیلئے تیار ہیں۔علاؤ الدین احمد نے کہا کہ  وہ ملک کی خاطر اپنا کاروبار ختم کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1993 سے قبل بھی صرف کمرشل بینک فارن کرنسی کی خریدو فروخت کرسکتے تھے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے وفد نے کہا کہ اُس وقت صرف ایک ارب ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان آتی تھی۔ صدر ایکسچینج کمپنی نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیوں کی بدولت ڈالر ریمیٹینسز ایک ارب سے 11 ارب ڈالرتک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمرشل بینکوں نے ٹریول کوٹہ کے نام پر ڈالرز باہر بھیجے جس سے ملک کو نقصان ہوا ۔ ظفر پراچہ نے کہا کہ ملک بھرکی 56 لائسنس یافتہ کمپنیاں کرنسی ایکسچنیج کا کام کررہی ہیں۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کےنمائندوں نے مطالبہ کیا کہ ان کا اڑھائی ارب سےزائد کا اسٹیٹ بینک کےپاس فکسڈ سرمایہ واپس کیا جائے۔
وفد نے کہا کہ طالب علموں،غیرملکی دورے کرنےوالوں کےعلاوہ امپورٹ ایکسپورٹ ادائیگیوں کیلئےکرنسی کی ضرورت ایکسچینج کمپنیاں پوری کرتی ہیں۔

ظفر پراچہ نے کہا کہ 7  سے 8  ارب روپے مختلف مد میں اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ہیں وہ واپس کیا جائے۔ ظفرپراچہ نے کہا کہ 40  ہزار سے زائد خاندان اس شعبہ سے وابستہ ہیں جو اس فیصلے سے بے روزگار ہوسکتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید عرفان علی شاہ نے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے وفد کو  یقین دہانی کرائی کی وہ اپنی سفارشات اسٹیٹ بینک کو فراہم کریں تاکہ ان سفارشات کا بغور جائزہ لیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیے: اندرون ملک دس ہزار ڈالر رقم کی نقل و حرکت پر اسٹیٹ بینک سے اجازت لینا ہوگی

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز