سندھ کے سرکاری اسکول: 12136میں استاد نہیں،11441میں شاگرد نہیں

پنجاب: اسکولوں کی خطرناک عمارتوں کیلئے مختص رقم خرچ نہ ہوئی | ہم نیوز

کراچی :آج سندھ کابینہ کے اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم کی طرف سےحیرت انگیز انکشاف کیا گیاہے کہ صوبےکے12ہزار 136 سرکاری اسکول ایسے ہیں جن میں استاد نہیں ہیں جبکہ 11ہزار 441اسکولوں میں شاگرد نہیں ہیں۔ 

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت  سندھ کابینہ کے اجلاس میں  اسکول ایجوکیشن فیوچر روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سندھ کابینہ کو بتایا گیاہے کہ صوبے  میں کل 49ہزار103 اسکول ہیں جن میں سے 11308 اسکولوں میں تمام سہولیات دستیاب ہیں جبکہ دیگر میں کچھ سہولیات کی کمی ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ کی طرف سے دی گئی بریفنگ میں کابینہ کو آگاہ کیا گیاہے کہ صوبے میں 7611 شیلٹرز لیس اسکولز ہیں جبکہ 10516 سنگل روم اسکولز ہیں۔ اسی طرح 18507 ڈبل رومز اسکولز موجودہیں۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبے میں 18660 اسکولز ایسے ہیں جو صرف ایک ٹیچر چلاتا ہےجبکہ 12136 اسکولوں میں ٹیچرزہی نہیں ہیں۔ اسی طرح کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں موجود 11441 اسکولز ایسے ہیں جن میں کوئی بچہ نہیں ہے۔

صوبائی کابینہ کو بتایا گیا کہ سندھ میں 44317 پرائمری اسکولز تھے، جس اسکولز کی کوئی انرولمنٹ نہیں تھی اور قابل عمل نہیں تھے وہ بند کر دیئے گئے ہیں۔اس وقت صوبے میں  37000 پرائمری اسکولز کھلے ہوئے ہیں جہاں بچوں کو تعلیم دی جارہی ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ صوبے میں تعلیم کی کوالٹی بہتر کرنے کے لیے ٹیچرز ٹریننگ پر فوکس کررہے ہیں۔ ٹیکسٹ بکس کے نصاب کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، جس کو موجودہ حالات کے تناظر میں اپ گریڈ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: سندھ کابینہ نے 4ہزار 693 این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی منظوری دیدی

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز