’ اگر ہندوستان جنگ کرنا چاہتا ہے تو کر کے دیکھ لے ‘


اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان جنگ کرنا چاہتا ہے تو کرکے دیکھ لے، جب بھارت ایل او سی کی خلاف ورزی کررہا ہو تو دونوں ممالک میں امن کیسے قائم ہوسکتا ہے؟

اسپیکراسد قیصرکی زیرِ صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی حکومت کی سوچ کل واضح کردی ہے، مودی سرکار کو روگ حکومت کہلانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے خود تسلیم کیا ہوا ہے کہ مسئلہ کشمیرایک  بین الاقوامی تنازع ہے پھر بھی اس کی حیثیت تبدیل کرنا مجرمانہ اقدام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنیوا کنونشن کے مطابق بھارتی اقدام جنگی جرم ہے، سلامتی کونسل کی قراردادوں کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں۔

شیریں مزاری نے کہا کہ ایل او سی پر کلسٹر بم کا استعمال کئے جارہے ہیں،  ہمیں اس معاملے پر عالمی برادری کو حقائق سے آگاہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں او آئی سی کے فورم کو بھی استعمال کرنا ہے، جو مسلم ممالک اس کے ممبرز ہیں وہ کیوں خاموش ییں؟

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جدہ سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں، وہ  آج اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔

مسئلہ کشمیر کے معاملے پر دوست ممالک نے کوئی جواب نہیں دیا، راجہ ظفرالحق 

سینیٹر راجہ ظفرالحق نے قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے معاملے پر ہمارے دوست ممالک نے کوئی جواب نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی اور ملیشیاء نے  مؤثر جواب دینے کے بجائے صرف یہ کہا کہ اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بجائے اس کے وزیر خارجہ سعودی عرب چلے جاتے انہیں پاکستان ہونا چاہیے تھا۔

اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے،  سراج الحق

جماعت اسلامی کے امیر  سراج الحق نے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی وحدت کو ہماری ذمہ دار شخصیت نے تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی تھی، اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ میں ایک لاکھ کشمیری شہید ہوگئے ہیں، وہاں اوسطاً روزانہ چار کشمیری شہید کئے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آبادی دنیا کے 112 ممالک سے زیادہ ہے، اس سے پورے خطے اور دنیا کا امن وابستہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیری اس وقت پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں، توقع تھی حکومت لائحہ عمل کی تیاری کرے گی۔

مسئلہ کشمیر کے معاملے پر ہم فوج کے ساتھ ہیں، مشاہد اللہ خان 

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری اور مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد اللہ خان میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

اس موقع پر مشاہداللہ خان نے  فوادچوہدری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بات نہیں آپ  آہستہ آہستہ تمیز سیکھ جائیں گے۔

انہوں نے فواد چوہدری پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس ڈبو کو تو میں باندھ کر آیا تھا، یہ کہاں سے نکل آیا جس پر ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی غیر اخلاقی الفاظ کو حذف کر دیا۔

مشاہد اللہ خان نے کہا کہ بھارت نے کشمیرکے ساتھ جو سلوک کیا وہ اٹوٹ کے ساتھ نہیں کیا جاتا،بھارتی فوج کشمیریوں پر جس طرح تشدد کررہا ہے سب گواہ ہیں۔

وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان گزشتہ روز اتنی دیر سے آئے ہیں ایسے تو پی آئی اے کی پرواز دیر نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن سے پوچھا میں کیا کروں؟  ہم بتاتے ہیں آپ استعفیٰ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے امریکہ میں آصف زرداری اور نوازشریف کے خلاف بات کی، انہوں نے تو اس وقت ہم سے نہیں پوچھا میں کیا کروں؟

مشاہد اللہ خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے معاملے پر ہم فوج کےشانہ بشانہ کھڑے ہیں، میں ملک کے تمام ایجنسیوں کو پیغام دیتا ہوں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

میری نظر میں سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد کشمیر کا مسئلہ اہم ہے، زرداری

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ میری نظر میں سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد کشمیر کا مسئلہ اہم ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی جنگ کیوں ہاری تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا مگر آج کشمیر بھی ٹوٹ چکا ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ دوقومی نظریہ ہی چلےگا اور آج کشمیر کی بھارت نواز قیادت بھی دو قومی نظریہ  تسلیم کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی بھارت نواز قیادت کہہ رہی ہے کہ ہم نے بھارت کے ساتھ الحاق کر کے بہت بڑی غلطی کی۔

انہوں نے کہا کہ جانتا ہوں کشمیری میری آوازسن رہے ہیں، یہ پوچھتے ہیں میں کیا کروں؟ اگر میں صدر ہوتا تو پہلی پرواز ابوظہبی، دوسری چین ، تیسری روس اور آخری ایران ہوتی۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ مجھ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ میں ہر روز ابوظہبی جاتا تھا میں آج بتا دیتا ہوں کہ میں وہاں میں کشمیریوں سے ملاقات کرتا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت جانتا ہے پاکستان کی معاشی صورتحال کیا ہے، آپ جنگ کی بات کر رہے ہیں؟ آج بھی یہی فارمولہ ہے کہ ہم نے دوستوں کو ساتھ ملانا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز