سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل پر الزامات کیا ہیں؟

گرفتاری کا خوف، مفتاح اسماعیل کا سندھ ہائیکورٹ سے رجوع

فوٹو: فائل

قومی احتساب بیورو (نیب) کی طرف سے گرفتار کئے جانے والے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل پربطورچئیرمین سوئی سدرن گیس کمپنی پانچ قیمتی گیس فیلڈز کے ٹھیکے جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ( جے جے وی ایل) نامی کمپنی کو دینے کا الزام ہے۔

مفتاح اسماعیل نے اپریل 2018 سے مئی 2018 تک وفاقی وزیر خزانہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس سے پہلے وہ وفاقی مشیر برائے خزانہ،محصولات اور اقتصادی امور رہے۔

مفتاح اسماعیل پربطورچئیرمین سوئی سدرن گیس کمپنی  الزام عائد کیا گیاہے کہ انہوں نے پانچ قیمتی گیس فیلڈز کے ٹھیکے جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ کوغیرقانونی  طور پر دیئے جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کانقصان پہنچا۔

نیب کا دعوی ہے کہ مفتاح اسماعیل کی صدارت میں ہونے والےسوئی سدرن گیس کمپنی  (ایس ایس جی سی) کےبورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس  میں ان ٹھیکوں کی منظوری دی گئی۔اس سلسلے میں ان کو نیب کی جانب سے پہلا کال اپ نوٹس گذشتہ سال 14جون کو بھیجا گیا تھا ۔

مفتا ح اسماعیل نے1990 میں امریکا کی پینسلوینیا یونیورسٹی سے پبلک فنانس اور پولیٹکل اکانومی کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ 1990 کی دہائی میں واشنگٹن میں آئی ایم ایف سے وابستہ رہے، 1993 میں وطن واپس لوٹے اور اپنے خاندانی بزنس سے وابستہ ہوگئے۔

2011میں انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی۔ 2012 سے 2013 تک انہوں نے پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے سربراہ کی ذمہ داریاں نبھائیں۔

مفتاح اسماعیل 2013 میں پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بنے۔ اسی سال وہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ بن گئے۔ 2014 میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سربراہ بھی رہے۔

مفتاح اسماعیل کو دسمبر 2017 میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں مشیر خزانہ مقرر کیا گیا۔انہوں نے  27 اپریل 2018 کو خزانہ،محصولات اور اقتصادی امور کے وفاقی وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ انہوں نے 31 مئی 2018 تک یہ ذمہ داری نبھائی۔

یہ بھی پڑھیے: مفتاح اسماعیل کو گرفتار کرلیا گیا

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز