کراچی میں سرکلر ریلوے بحال ہونے کی امید ایک بار پھر دم توڑ گئی

سپریم کورٹ کا کراچی سرکلر ریلوے ایک ماہ میں چلانے کا حکم

کراچی میں سرکلر ریلوے بحال ہونے کی امید ایک بار پھر دم توڑ گئی ہے ، ریلوے حکام نے منصوبے پر مزید کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ 

شہر قائد کے باسیوں کا کہناہے کہ  ٹریک کے اطراف آباد لوگوں کو منتقل کیے بغیر سرکلر ریلوے کی بحالی ممکن نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود پاکستان ریلوے کراچی سرکلر ریلوے کے ٹریک کو قابضین سے مکمل طور پر خالی کرانے میں ناکام رہا ہے۔

اب تو ریلوے حکام نے عدالت کو بھی بتا دیا ہے کہ مزید کام کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ شہریوں کا کہناہے کہ  ٹریک پر آباد لوگوں کو متبادل رہائش کی فراہمی کی صورت میں ہی منصوبہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

دوماہ پہلے سپریم کورٹ کے حکم پر ٹریک کو خالی کرانے کا آپریشن تو کیا گیا لیکن پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ صوبائی اور وفاقی حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث ایک بار پھر یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کے ٹریک کو بحال کرنےکے لئے خاطر خواہ وسائل موجود نہیں ہیں ،صرف ٹریک سے قابضین کو ہٹا کر اس منصوبے کو مکمل نہیں کیا جا سکتا۔

ایسی صورتحال میں سوال پیدا ہوگیاہے کہ کیا کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا خواب کبھی پورا ہو سکے گا ؟ کیا کراچی کے شہریوں کو کبھی با عزت سفری سہولیات میسر آسکیں گی ؟

یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ کا کراچی سرکلر ریلوے ایک ماہ میں چلانے کا حکم

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز