کشمیر: ٹرمپ انتظامیہ بحران کے حل میں مدد کرے گی، سینیٹر گراہم

کشمیر: ٹرمپ انتظامیہ بحران کے حل میں مدد کرے گی، سینیٹر گراہم

واشنگٹن: امریکہ کے بااثر سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو فوجی تصادم سے بچانے کے لیے خطے سمیت پوری دنیا کو کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ ان کے اپنے مفاد میں ہے۔ انہوں نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں کہی ہے۔

امریکی غلطی ہے کہ وہ پاکستان کے لیے پالیسیاں بدلتا رہا، سینیٹر گراہم

ٹرمپ انتظامیہ میں انتہائی اہمیت کے حامل قراردیے جانے والے سینیٹ میں قانون ساز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر لنڈسے گراہم  نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ ٹرمپ انتظامیہ پیدا شدہ بحران کو حل کرنے میں پاکستان اور بھارت کی مدد کرے گی۔

سینیٹر لنڈسے گراہم نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے وزیرخارجہ سے بات ہوئی ہےجس میں کشمیر پر پیدا ہونے والی صورتحال زیر غور آئی۔ انہوں نے زور دے کر اپنے ٹوئٹ پیغام میں کہا کہ بھارت نے کشمیر میں جو تبدیلی کی ہے اس پرغورو فکر کرنے کی فوری ضرورت ہے وگرنہ پیدا شدہ تناؤ میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

امریکی سینیٹر نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کو فوجی تصادم سے بچانا ہو گا اور اس کے لیے خطے سمیت پوری دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

امریکہ، ایران معاہدہ: نئے مسودے کا اہم نکتہ سامنے آگیا

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو براہ راست بات چیت میں تعاون فراہم کریں گے۔ ذمہ دار افسر کا مؤقف تھا کہ فوجی تناؤ کے خطرات سے گریز کے لیے ضروری ہے کہ کشیدگی کم کی جائے۔

خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ذمہ دار افسر کا کہنا تھا کہ فوری ڈائیلاگ کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں تنازع کی تاریخ بتاتی ہے کہ تحمل و برداشت کی اشد ضرورت ہے۔

ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے باقاعدہ جنگیں ہو چکی ہیں۔


متعلقہ خبریں