پاکستان کا سخت ردعمل: بھارت التجاؤں پہ اتر آیا

کرتارپور راہداری کا افتتاح، مودی پاکستان آئیں گے

اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی اقدامات  پر پاکستان کے کرارے جواب نے بھارت کی ہوائیاں اڑا دیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پاکستان کی جانب سے سفارتی تعلقات کم کرنے کے اعلان پہ التجاؤں پر اتر آئی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق بھارت کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے اقدامات پہ نظر ثانی کرے تاکہ نارمل سفارتی تعلقات بحال رہیں۔

افسوسناک امر ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ ایک جانب پاکستان سے الجائیں کررہی ہے تو دوسری جانب وزیر خارجہ جے شنکر اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مؤقف اپنائے ہوئے ہیں کہ جموں و کشمیر اور آئین کی شق 370 بھارت کا اندرونی مسئلہ ہیں۔

دلچسپ امر ہے کہ ابھی دو دن قبل ہی کانگریسی رکن پارلیمنٹ ادھیر چودھری نے مودی حکومت کی منافقانہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے وزیرداخلہ امیت شاہ سے ایوان میں دریافت کیا تھا کہ اگر مسئلہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے تو پھر اقوام متحدہ 1948 سے اس کی مانیٹرنگ کیوں کررہی ہے؟ انہوں نے استفسار کیا تھا کہ اگر مسئلہ کشمیر بھارت کا صرف اندرونی معاملہ ہے تو پھر شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ پر دستخط کیوں کیے گئے تھے؟

بھارتی لوک سبھا میں کشمیر پر حکومتی منافقت کا بھانڈا پھوٹ گیا

کانگریسی رکن ادھیر چودھری نے یہ بھی پوچھا تھا کہ اگر بالفرض مسئلہ کشمیر دو ملکوں کے درمیان موجود تنازع ہے تو پھر ابھی چند روز قبل بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو سے کشمیر کے حوالے سے گفتگو کیوں کی تھی؟

کانگریسی رکن پارلیمنٹ کے سچے لیکن تلخ اور حقیقت پر مبنی سوالات سے حکمراں جماعت کے اراکین پارلیمنٹ ایوان میں بیٹھے پسینے میں بھیگ گئے تھے اور جوابات دینے کے بجائے منہ چھپاتے رہے تھے۔

بھارت کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کا آئین خود مختار معاملہ تھا، ہے اور رہے گا۔ جے شنکر نے اپنے بیان میں روایتی الزام تراشی کا پرانا طریقہ اپناتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ یہ حیران کن نہیں ہے کہ جموں کشمیر میں ترقیاتی اقدامات کو پاکستان میں منفی انداز میں لیا جا رہا ہے۔

بھارتی ہٹ دھرمی: ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی قبول کرنے سے انکار کردیا

مقبوضہ جموں و کشمیر کے متعلق جب بھارت نے انتہائی اقدام اٹھایا تو پاکستان نے اس کے جواب میں پوری دنیا کو حقیقی زمینی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے گزشتہ روز سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا گزشتہ روز اسی سلسلے میں اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں پاکستان مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت سمیت انٹیلی جنس حکام نے شرکت کی تھی۔

اجلاس میں سول و عسکری قیادت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات پر پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر پاکستان کی جانب سے دیے جانے والے ردعمل پر مشاورت مکمل کی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز