سپریم کورٹ کے ’’حکم‘‘ پر عملدرآمد ہمارا کام نہیں ،وزارت انسانی حقوق کی 5سال بعد وضاحت

اسلام آباد: وزارت انسانی حقوق نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں 5 سال بعدوضاحت دی ہے کہ مذہبی رواداری سے متعلق سپریم کورٹ کے 2014 کے احکامات پر عملدرآمد  ان کا نہیں بلکہ  وزارت مذہبی امور کا کام ہے۔

قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس  بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ شازیہ مری، بابر اعوان، فرحت اللہ بابر، فوزیہ بہرام، مہرین بھٹو، رخسانہ نوید ودیگر نے قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں شرکت کی۔

قائمہ کمیٹی کے سربراہ بلاول بھٹو  کے استفسار پر کہ کیوں مذہبی رواداری سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر 5 سال بعد بھی عملدرآمد نہیں ہوا، وزارت انسانی حقوق نے وضاحت کی کہ وزارت مذہبی امور اس پر عمل کرسکتی ہے۔

بلاول بھٹو نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے مذہبی رواداری کے حوالے سے 2014 میں احکامات وزارت انسانی حقوق کو دئیے تھے، لیکن پانچ برس  بعد بھی ان پر عمل کیوں نہیں ہوا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بابر اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بتائیں کہ ہماری حکومت میں تو ایک خط نہ لکھنے پر وزیراعظم کو گھر بھیج دیا جاتا تھا۔

کمیٹی کے سربراہ  بلاول بھٹو زرداری کے مکالمے پر بابر اعوان خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دے سکے۔

وزارت  انسانی حقوق کی وضاحت سے بلاول بھٹو مطمئن نہیں ہوئے اور قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اگلے اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے حکام کو بلانے کی ہدا یت کردی۔

سربراہ قائمہ کمیٹی  نے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔  انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حساس موقع پر مریم نواز کی گرفتاری کی بھی مذمت کی۔

اجلاس میں زینب الرٹ بل اور ذہنی و جسمانی معذوری ( پیپلز ود ڈس ایبلٹی) بل کے حوالے سے ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اسٹیٹس آف ویمن کمیشن بل اور ڈے کیئر بل کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پر بھی غور کیا گیا۔

وزارت انسانی حقوق نے بچوں کے تحفظ (چائلڈ پروٹیکشن) کے معاملے پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی۔  اسپیکر قومی اسمبلی کی درخواست پر ملتان قطب پور میں بھائیوں پر تشدد کا معاملہ بھی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں اٹھایا گیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز