بلوچستان کی پہلی مائنز اینڈ منرل ڈیویلپمنٹ پالیسی 2019 متعارف کرادی گئی

کوئٹہ : بلوچستان کی پہلی مائنز اینڈ منرل ڈیویلپمنٹ پالیسی 2019 متعارف کرادی گئی ۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ قوانین میں ترامیم اور ریفامز لائے بغیراداروں کی استعداد کار بڑھانا نا ممکن ہے، حکومت کو ریونیو دینے والے اداروں کی بہتری کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں

جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان مائنز اینڈ منرل ڈوپلمنٹ پالیسی سے صوبے میں سرمایہ کار متوجہ ہونگے،محکمہ مائنراینڈ منرلز کا ریونیو ہدف 5ارب روپے تک لیکر جائیں گے۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بلوچستان مائنر اینڈ منرلز ڈیویلپمنٹ پالیسی 2019کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان کابینہ سے مائنز اینڈ منرلز پالیسی کی منظوری کے بعد پالیسی پرمختلف اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مختلف اقسام کے منرلز موجود ہیں لیکن پالیسی فرسودہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں اور مائنرز کو مشکلات کا سامنا تھا مائنز اینڈ منرلز کا شعبہ بلوچستان کا اہم ترین شعبہ ہے جس سے صوبے کو وافر آمدن حاصل ہوسکتی ہے لیکن ماضی میں اس پر توجہ نہیں دی گئی۔

جام کمال خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اس شعبے کو بہتر کر نے کے لئے اقدامات کر نے کاآغاز کیا ہے جس کا پہلا قدم نئی مائنز اینڈ منرلز ڈیویلپمنٹ پالیسی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جب اداروں کو بہتر نہیں کیا جاتا تو اداروں کی کارکردگی نیچے کی طرف جاتی ہے ادارے حکومت کو کما کر نہیں دے پاتے اگر ادارے ریونیو حاصل نہ کریں تو حکومت چل نہیں سکتی نہ پی ایس ڈی پی نہ ہی ترقیاتی کام ہو سکتے ہیں ۔

وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ اداروں سے آمدن حاصل کرنے کے لئے انکی بہتری انتہائی ضروری ہے صوبائی حکومت اداروں کی بہتری اور ان میں ڈسپلن لانے کے لئے کارفرما ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی علاقے میں جانے سے قبل سرمایہ کار وہاں کی پالیسی دیکھتے ہیں، بلوچستان میں پالیسیاں پرانی ہونے کی وجہ سے یہاں سرمایہ کار نہیں آرہے تھے لیکن نئی منرل پالیسی کے سرمایہ کاری پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔

جام کمال خان نے کہا کہ اس پالیسی کو سرمایہ کار دوست بنایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ چھوٹی سطح کی مائنگ سے 5ارب روپے ریونیو حاصل کر نے کا کام مشکل ضرور ہے لیکن امید ہے ہم اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے۔

وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت ریونیو دینے والے اداروں کے لئے ایسی پالیسی مرتب کرنا چاہتی ہے کہ جو ادارے حکومت کو کما کر دیں انکی کمائی کا کچھ حصہ ان اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لئے بھی استعمال ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیے: بلوچستان حکومت کا غیر رجسٹرڈ این جی اوز پر پابندی لگانے کا فیصلہ

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز