عظمیٰ بخاری سمیت 8 لیگی رہنما مشکل میں پھنس گئے

لاہور: احتساب عدالت میں گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی پیشی پر کارکنوں اور پولیس میں تصادم کے معاملے پر کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اسلام پورہ پولیس نے  عظمیٰ بخاری، توصیف شاہ اور مہرمحمود احمد سمیت 8 نامزد اور150 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو تشدد سمیت سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور پتھراؤ سے کانسٹیبل نثار کے سر پر گہری چوٹ آئی۔

مقدمے میں توڑ پھوڑ، کارسرکار میں مداخلت سمیت نقص امن کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق لیگی رہنماؤں سمیت کارکنوں کے خلاف مقدمے کا اندراج سب انسپکٹر دلشاد کی مدعیت میں کیا گیا۔

یاد رہے جمعہ کو احتساب عدالت میں مریم نواز، حمزہ شہباز اور راناثنااللہ کو پیش کیا گیا تھا۔

اس موقع پر لیگی کارکنوں کا پولیس سے عدالت میں داخل ہونے سے روکنے کی وجہ سے تصادم ہو گیا تھا اور اس دوران عظمیٰ بخاری نے ایک پولیس اہلکار کو تھپڑ رسید کر دیا۔

اس حوالے سے مسلم لیگ نواز پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا  کہ پولیس اہلکار نے ان سے بدتمیزی کی اور دھکا دیا جس پر انہوں نے اسے تھپڑ مارا۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ میں احتساب عدالت لاہور جارہی تھی کہ پولیس اہلکاروں نے مجھے زبردستی روکا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پولیس اہلکار کو تھپڑ میرے ساتھ تضحیک آمیز حرکت کی وجہ سے مارا۔

ن لیگی رہنما نے کہا کہ پولیس کی جانب سے لیگی ورکرز پر تشدد قابل مذمت ہے۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز