تشنج (ٹیٹنس) کے وارڈز نایاب ہونے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع

لاہور: لاہور سمیت صوبہ بھر کے اسپتالوں میں تشنج (ٹیٹنس) کے وارڈز نایاب ہونے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی گئی۔

تحریک التوا تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی سعدیہ سہیل رانا کی جانب سے جمع کرائی گئی۔

تحریک التوا کے متن کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت صوبہ میں تشنج (ٹیٹنس) کے وارڈ نایاب ہیں۔ نہ عوام میں آگاہی ہےاورنہ ہی سرکاری اسپتالوں میں تشنج کے وارڈز بن سکے۔

ایوان کو مزید بتایا گیا کہ محکمہ صحت کی جانب سے تشنج جیسے خطرناک مرض کے بارے میں کسی قسم کی آگاہی نہیں دی جا رہی۔ جس کے باعث معمولی چوٹ لگنے پرمریض تشنج کا انجکشن لگانے کو نظر اندازکردیتے ہیں۔

تحریک التوا میں کہا گیا کہ ایک رپورٹ کے مطابق 90فیصد سے زائد عوام تشنج کی بیماری کے بارے مکمل طور پر لاعلم ہیں۔ وہ نہیں جانتے کے اگر یہ مرض لاحق ہو جائے تواس کے کیا نقصانات ہیں۔

اس لاعلمی کی بڑی وجہ محکمہ صحت کی جانب سےعوام میں عدم آگاہی بتائی جا رہی ہے۔ جب کے دوسری جانب تعلیمی نصاب کے اندرایسا کوئی مضمون بھی شامل نہیں جس میں اس سے بچاﺅ اورعلاج کے متعلق تفصیلات سے  آگاہ کیا گیا ہو۔

تشنج (ٹیٹنس):

تشنج(ٹیٹنس) کا مرض ایک بیکٹریا کے ذریعے پھیلتا ہے، جسے ”کلاسٹریڈم ٹینی” بیکٹریا کہتے ہیں جوعموماً مٹی، کچرا اور گندگی پرہوتا ہے، اسی لئے سڑک پریا باہرگرؤانڈ وغیرہ میں چوٹ لگ جائے تو کھلے زخم سے یہ بیکٹریا جلد کے اندر داخل ہوکر خون میں شامل جاتا ہے اور موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اس سے بچاؤ کا بہترین حل ویکسین ہے جو اگر بچپن میں نہ بھی لگی ہو تو ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت لگوائی جاسکتی ہے۔

تشنج کی علامات ظاہر ہونے کا دورانیہ چار دن سے تین ہفتے ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز