مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے دوبارہ کرفیو لگا دیا

سرینگر: قابض بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر میں مظاہروں اور احتجاج سے بچنے کے لیے عیدالاضحیٰ سے ایک دن قبل وادی میں دوبارہ کر فیو لگا دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قابض بھارتی انتظامیہ نے اتوار کو دوبارہ کرفیو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے  بعد شدید عوامی ردعمل کے نتیجے میں لگایا جبکہ گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری کرفیو کے باوجود وادی کشمیر کی سڑکوں پر زبردست احتجاج اور قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

قابض فوج اور پولیس احتجاج کرنے والے کشمیریوں کے خلاف پیلیٹس اور آنسوں گیس کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں پچھلے ایک ہفتے میں ایک درجن سے زیادہ  افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

اتوار کو سرینگر اور دوسرے علاقوں میں قابض بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار اعلان کرتے رہے کہ کرفیو دوبارہ لگا دیا گیا ہے جبکہ سینئر بھارتی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ نماز عید کی ادائیگی کے لیے اجازت ابھی نہیں دی گئی ہے اس کا فیصلہ رات گئے کیا جائے گا۔

ایک حکومتی اہلکار نے بتایا کہ عید الاضحیٰ کے اجتماعات کی اجازت کے حولے سے کوئی بھی فیصلہ سکیورٹی کی مجموعی صورت حال کا جائرہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔ تاہم نہیں لگتا کہ لوگوں کو عید کے بڑے اجتماعات کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

قبض بھارتی انتظامیہ نے نماز جمہ کے لیے کرفیو میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔ نماز جمعہ کے بعد ہزاروں کشمیری مختلف علاقوں میں ہندوستان کے یک طرفہ اقدام کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

مقبوضہ وادی میں قابض بھارتی انتظامیہ نے کرفیو کے ساتھ ساتھ مواصلاتی قدغن بھی لگا رکھا ہے اور پوری وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس گزشتہ ایک ہفتے سے بند ہے۔ مواصلاتی پابندیوں اور کرفیو کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے اپنے آئین کی شق 370 کا خاتمہ کر کے اسے دو حصوں لداخ اور کشمیر میں تقسیم کر دیا اور دونوں ریاستوں کو مرکزی حکومت کے ماتحت کر دیا ہے۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد ہندوستان سے لوگ وادی میں زمین اور جائیداد خرید سکتے ہیں اور رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ کشمیری خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ باہر سے آئے ہوئے لوگوں کو جائیداد خریدنے کی اجارت ملنے کے بعد مستقبل میں وہ اکثریت سے اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے۔

بھارت کے ناجائز قبصے کے حلاف مزاحمت کے نتیجے میں پچھلے 30 سالوں میں 80,000  سے زائد کشمیری جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ کشمیری بھارت سے مکمل آزادی اور حق خود ارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان نے بھارت سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔ کشمیریوں کی ایک بہت بڑی اکثریت ہندوستان سے مکمل آزادی اور پاکستان سے الحاق کی حامی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز