مغربی کنارے کا دورہ: اسرائیل کی طرف سے امریکی کانگریسی ممبران کو اجازت نہ دینے کا امکان

رائیٹرز: اسرائیل نے امریکی کانگریس کی دو بااثر قانون ساز راشدہ طالب اور الہان عمر کومقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے متوقع دورے سے روکنے کےلیے غور کرنا شروع کر دیا ہے۔

امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی دونوں خواتین اراکین اسرائیل کی سب سے بڑی ناقد رہیں ہیں۔

اسرائیلی حکام نے بتایا کہ دونوں کانگریسی ممبران کو مغربی کنارے اور مشریقی یروشلم کے دورے کی اجازت کے بارے میں حتمی فیصلہ اس ہفتے کے آخر تک کیا جائیگا۔

کانگریسی ممبران راشدہ طالب اور الہان عمر فلسطین کی حامی ’’بائیکاٹ، قبضہ چھڑاؤ اورپابندی ہٹاؤ‘‘ تحریک کی بھی حامی رہیں ہیں۔

اسرائیلی قوانین کے مطابق وہ فلسطین کی حمایتی تحریک کے حامی لوگوں کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دورے سے روک سکتا ہے۔

تاہم امریکہ میں تعینات اسرائیلی سفیر رون ڈرمر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اسرائیل تعلقات کو مد نظر رکھتے ہوئے دونوں کانگریسی ممبران کو مغربی کنارے اور مشریقی یروشلم کے دورے کی اجازت دی جائیگی۔

یہ بھی پڑھیں: یروشلم: اسرائیل نے گھروں اور عمارات کی مسماری شروع کردی

ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس معاملے پر حتمی فیصلے کے لیے اپنے کابینہ کے اراکین سے مشاورت شروع کردی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں  اسرائیل کے  کانگریس کے  ڈیموکریٹک اراکین سے تعلقات میں تناو آسکتا ہے۔

ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل کی طرف سے اجازت نہ ملے کے امکانات زیادہ ہے، اور اس حوالے سے قانونی ماہرین سے مشاورت جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دورے کی حتمی اجازت کے  بارے میں فائل اسرائیل کی نمائندگان اخلاقیات کمیٹی کے پاس پڑی ہے جس پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

امریکی نژاد راشدہ طالب کی نانی اور حاندان کے لوگ مغربی کنارے واقع بیت الورفوقہ میں رہائش پزیر ہیں۔ الہان عمر کے گھر والے ان کی بچپن میں ہی صومالیہ سے امریکہ منتقل ہوگئے تھے، اور وہ مینیسوٹا کے پانچویں ڈسٹرکٹ میں کانگریس کی نمائندگی کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ مشریقی یروشلم میں موجود مسجد اقصیٰ کو مسلمان اور یہودی دونوں مقدس جگہ  مانتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز