’بھارت کا موقف مسترد ہونے سے پاکستان کو علامتی فتح ملی ہے‘


اسلام آباد: سئینر صحافی عامر ضیاء کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں بھارت کا موقف مسترد ہونا پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، اس معاملے میں ہمیں مزید کام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

پروگرام ایجنڈا پاکستان میں سابق سیکرٹری دفاع آصف یاسین ملک، عالمی امور کے ماہر ڈاکٹر رفعت حسین اور تجزیہ کار اکرام سہگل نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا۔

اس موقع پر آصف یاسین ملک نے کہا کہ نریندرمودی کی وجہ سے مسئلہ کشمیر دنیا کے سامنے آگیا ہے۔ کشمیریوں کی ایک نئی نسل نے پرامن جدوجہد کی ہے جس کا آج انہیں پھل ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جتنا ظلم کررہا ہے اس سے یہ تحریک بھی تشدد کی طرف مائل ہوسکتی ہے۔

آصف یاسین کا کہنا تھا کہ جب مغرب ممالک میں رائے عامہ تبدیل ہوگی تو وہاں کے ممالک کو بھی اپنی پالیسی تبدیل کرنی ہوگی۔

ان کی رائے تھی کہ ہمیں اس حوالے سے پوری دنیا کو آگاہ کرنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں کیسے مظالم ہورہے ہیں، جو ارتعاش پیدا ہوا ہے پاکستان کو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔

سابق سیکرٹری دفاع نے کہا کہ ایک طویل عرصے بعد قوم مسئلہ کشمیر پر متحد ہوئی ہے۔ حکومت، فوج، میڈیا اور عوام ایک صحفے پر ہیں جو ہماری طاقت ہے۔ ہم نے درست وقت پر اچھے فیصلے کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت جنگ کبھی نہیں چاہیے گا کہ ہمارے معاشی حالات تو پہلے ہی کمزور ہیں لیکن بھارت بڑی محنت سے یہاں تک اپنی معیشت کو لایا ہے۔

پاک بھارت جنگ کا خطرہ موجود ہے، ڈاکٹر رفعت حسین

ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ پہلی دفعہ دنیا کے رائے عامہ میں کشمیر کے حوالے سے تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ تمام اراکین نے اتفاق کیا کہ بھارت کا عمل خطرناک تھا۔

انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتیں جب کوئی قدم اٹھاتی ہیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے قانون کے مطابق ہوں، امریکہ ایسا نہیں کرتا اور بھارت نے کشمیر میں یہی کیا ہے کہ وہ طاقت سے معاملہ دبا لیں گے۔

ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ جنگ کا خطرہ ضرور موجودہے اور وزیراعظم نے اس طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ اگر کشمیر کے ان حالات میں بھارت ایل او سی پر حملے کی کوشش کرے گا تو بھارت کو 27 فروری اور اپنے اندرونی حالات یاد رکھنے چاہیں جہاں نریندرمودی کی معاشی پالیسی ناکام ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر روایتی جنگ ہوتی ہے تو پاکستان بھارت سے آگے ہیں، 45 سے 60 دنوں تک ہم جنگ کے لیے تیار ہیں۔

ڈاکٹررفعت حسین نے تجویز دی کہ پاکستان کو حریت رہنماؤں کی حکومت قائم کرنی چاہیے اور اس کے زریعے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے لانا چاہیے۔

بھارتی اقدام نے کشمیری قیادت کو متحدکردیا ہے،اکرام سہگل

اکرام سہگل نے کہا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان اور بھارت کا نہیں ہے، لداخ کے معاملے پر چین بھی اس تنازعے کا حصہ ہے۔ یہ معاملہ اب انٹرنیشنلائز ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے بھارت سے کہا تھا کہ اگر متنازع علاقے میں مداخلت کریں گے تو یہ حق دوسروں کو بھی ہوگا۔ چین اور روس مل کر آگے بڑھ رہے ہیں، وہ اب بھی پاکستان کے ساتھ نہیں لیکن مخالفت ترک کردی ہے۔

اکرام سہگل کا کہنا تھا کہ بھارت میں شورش کی شدت بہت زیادہ ہے، ریاستیں اپنی آزادی کو دیکھ رہی ہیں۔ بھارت نے ایسا قدم اٹھایا ہے جس کی واپسی ممکن نہیں ہے، پہلی بار کشمیری قیادت متحد ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس محدود اور روایتی جنگ کی اہلیت موجود ہے لیکن لمبی جنگ میں بھارت کو سبقت حاصل ہے۔ ہمارے پاس بھارت کو انتہائی حد سے روکنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ جنگ کو اب محدود پیمانے تک نہیں رکھا جاسکتا۔

اکرام سہگل نے بتایا کہ  فوج میں جوئنیر قیادت پاکستان کی طاقت جبکہ بھارت کی سب سے بڑی کمزوری ہے، پاکستان اپنی بقاء کے لیے لڑے گا لیکن پاکستان کے خلاف لڑنے والے ہر بھارتی کی یہ سوچ نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہر ملک کے لیے ایک ٹیم بنانی چاہیے جو فوری طورپر جا کر یہ ذمہ داری سنبھال لیں اور اس سفارتی جدوجہد کو جاری رکھیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز