پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین میں بڑی تبدیلیاں

کرکٹرز کو غیر ملکی لیگ کھیلنے کیلئے این او سی کے حصول میں مشکلات کا سامنا

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنے آئین میں بڑی تبدیلیاں کر دی ہیں جس کے تحت بورڈ آف گورنرز کو طاقت کا سرچشمہ  قرار دے دیا گیا ہے۔

ہم نیوز کو موصول دستاویزات کے مطابق مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کا عہدہ ختم کرنے کے بعد چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کا نیا عہدہ متعارف کرایا گیا ہے جسے بے تحاشہ اختیارات دیئے گئے ہیں۔

دوسری جانب نئے آئین کے مطابق پیٹرن انچیف کا کرداربھی محدود کردیا گیا ہے جو ضرورت پڑنے پر بورڈ کو مختلف ہدایات نظرثانی کیلئے بھیج سکے گا، سابقہ آئین میں پیٹرن انچیف کی جانب سے بھیجی گئی تمام سفارشات پر عملدرآمد لازمی تھا۔

خیال رہے پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف وزیراعظم عمران خان ہیں۔

ترمیمی آئین میں چیئرمین پی سی بی کے پالیسی فیصلوں سے متعلق پیٹرن انچیف کو آگاہ کرنے کی شق بھی ختم کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ چیئرمین کا اہم تعیناتیوں کیلئے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بورڈ آف گورنرز سے منظوری لینا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ قومی ٹیم کے کپتان اور نائب کپتان کی تعیناتی کیلئے چیئرمین، چیف ایگزیکٹو آفیسر اور سلیکشن کمیٹی سے مشاورت کرنا ضروری ہو گی۔

نئے آئین کی روشنی میں چیئرمین پی سی بی سالانہ کارکردگی رپورٹ اے جی ایم کے سامنے پیش کرنے کے پابند ہوں گے جبکہ ان کی عدم موجودگی میں تمام اختیارات وائس چیئرمین کو سونپے جائیں گے۔

وائس چیئرمین کی تعیناتی پی سی بی آئین کے مطابق بورڈ آف گورنرز کرے گا اور ان  کی عدم موجودگی میں اختیارات سی ای او کے سپرد ہوں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سی ای او کی تعیناتی اور ذمہ داریوں کا تعین چیئرمین کی سفارش پر بورڈ آف گورنرز کرے گا ۔

نئے آئین کے مطابق سی ای او اپنی کوئی ذمہ داری کسی بھی افسر کو سونپ سکتے ہیں لیکن اس پہلے چیئرمین کو آگاہ کرنا ضروری ہو گا۔

اسی طرح سی ای او کی غیرموجودگی یا برطرفی کی صورت میں چیئرمین عارضی اختیارات کسی بھی افسر کو سونپنے کے مجاز ہوں گے۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز