ملک کمزور کرنے میں حزب اختلاف بری طرح ناکام ہوئی، شبلی فراز

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا ہے کہ موجودہ نازک حالات میں حزب اختلاف کا ملک کو کمزور کرنے عمل بری طرح ناکام ہوا اور حزب اختلاف کو منہ کی کھانا پڑی۔

ہم نیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے آج ایک اور یوٹرن لیا اور وہ ویسے بھی یوٹرن لینے کے حوالے سے مشہور ہیں تاہم فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کوئی نئی بات نہیں ہے یہ پہلے بھی ہوتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے حکومت کس طرح کمزور ہو گئی ؟ ہم نے کسی سول نافرمانی کی بات نہیں کی اور نہ ہی کسی بل کو جلایا۔

محمد زبیر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے اور خسارے میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور قائد ایوان سینیٹ شبلی فراز نے کہا کہ آرمی چیف کے مدت ملازمت میں توسیع کا مجھے ابھی معلوم ہوا ہے اس کے بارے میں مجھے معلوم نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ جن حالات سے پاکستان گزر رہا ہے اس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ضروری تھا۔ ملک کی معیشت نہ پہلے ٹھیک تھی اور نہ اب ٹھیک ہے۔ کشمیر کی صورتحال بھی اس وقت انتہائی نازک ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی صورتحال انتہائی نازک ہے اور اب پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ فوج اور حکومت ایک ہی پیج پر ہیں جس کی وجہ سے وزیر اعظم کا فیصلہ درست ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو وزیر اعظم عمران خان کی وجہ سے بیرونی امداد ملی اور غیر ملکی دوروں کے دوران عمران خان کو بہت عزت ملی ہے۔

قائد ایوان سینیٹ نے کہا کہ حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت حکومت کو کمزور کرنا چاہتی ہے اور موجودہ ملک کی نازک صورتحال کے باوجود وہ ملک کو مزید کمزور کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جس میں حزب اختلاف کو بری طرح ناکامی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے معیشت کی درستگی کے لیے درست سمت کا تعین کیا ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ ایک دن میں ملک کی معیشت کو بہتر کر دیں اس میں وقت لگے گا۔

شبلی فراز نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے ملک کو تباہ کیا اور آمدن سے زائد اخراجات کیے اور تمام ٹیکس مشینری کو تباہ کر دیا۔ ہم نے آتے ہی ایف بی آر کے تمام افسران کو تبدیل کر دیا ہے اور ہم نے جو اہداف دیے ہیں اس پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں چین پاک اقتصادی راہداری کے تحت جاری منصوبوں پر جائزہ اجلاس

ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ ہمارے ملک کو معیشت کے چیلنجز اور سیکیورٹی کی صورتحال کا سامنا تھا جبکہ کشمیر کی صورتحال ملک کو انتہائی نازک صورتحال پر لے آئی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت معیشت کو درست کرنا ایک حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس میں آرمی سمیت سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ معیشت خراب ہو گی تو سیکیورٹی کی صورتحال بھی خراب ہو گی۔ ان دونوں کا ایک دوسرے سے براہ راست تعلق ہے۔

ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ اسد عمر ملک کے اچھے وزیر خزانہ تھے اور انہیں معلوم تھا کہ معیشت کو بہتر کرنا بہت مشکل ہے لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں تھے۔ آئی ایم ایف کا پاکستان کے لیے پروگرام انتہائی ظالمانہ ہے۔ جو آپ پورا ہی نہیں کر سکتے۔

ماہر معیشت نے کہا کہ ملک کو اس صورتحال تک پہنچانے کے سب ذمہ دار ہیں، نئی حکومت کے پاس تمام افراد غیر تجربہ کار تھے اور انہوں ںے ایسے معاملات پہلے کبھی نہیں چلائے تھے اس  لیے انہیں مشکلات کا سامنا رہا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز