آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع وقت کا تقاضا ہے، عامرکیانی

اسلام آباد: مرکزی سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع سے متعلق  وزیراعظم عمران خان کے فیصلے کو وقت کا تقاضا قرار دے دیا۔ 

عامر محمود کیانی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاکہ سپہ سالار کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،علاقائی صورتحال اور پاکستان کے اطراف میں جنم لیتی سیکیورٹی کیفیت غیر معمولی اقدامات کی متقاضی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع وقت کی ضرورت تھی،سنگین سیکیورٹی حالات اور مستقبل میں ابھرتے چیلنجز پالیسیوں کے تسلسل کے متقاضی ہیں۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حالت جنگ میں کمان کی تبدیلی پیچیدگیوں کی موجب بن سکتی تھی۔ وزیراعظم کا فیصلہ ملک و قوم کیلئے تاریخی و دوررس نتائج مرتب کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سپہ سالار کی مدت ملازمت میں توسیع تنازعہ کشمیر کے مستقبل پر بھی گہرے نقوش مرتب کرے گی،ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں جنرل قمر جاوید باجوہ کیساتھ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر قیادت پاک فوج کی کامیابیاں

سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں تین سالہ توسیع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس توسیع سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس سے بہت سارے اعلیٰ فوجی افسران کے کیرئیر پر اثر پڑے گا اور نتیجے کے طور پر ان کا مورال متاثر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ فوج ایک مضبوط ادارہ ہے اور مضبوط ادارے کسی ایک شخصیت پر انحصار نہیں کرتے چاہے وہ شخصیت کتنی بھی قابل اور بہترین ہو۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ اداروں کی کمزوری شخصیت پرستی میں ہوتی ہے۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا جس پر ہمیشہ کے لئے انحصار کیا جائے۔ یہ فوج کے لئے اچھا پیغام نہیں ہے کہ فوج ایک یا دو افراد پر انحصار کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے اپنی ریٹائرمنٹ سے دس ماہ قبل ہی یہ اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے: آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر وزراء کا ردعمل

فرحت اللہ بابر نے کہا اس وقت عمران نے 25جنوری 2016ءکو یہ ٹویٹ کیا تھا کہ جنرل راحیل شریف کی عزت و وقار قوم کے سامنے ان کے اس اعلان سے بڑھ گئی ہے کہ وہ توسیع لینے سے انکار کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت ایک فرد کے اس انکار سے قوم کی نظروں میں ان کی عزت اور وقار بڑھ گئی تھی تو اب یہ کیسے سوچا جا سکتا ہے کہ جب کوئی فرد مدت ملازمت میں توسیع قبول کر لیتا ہے تو ان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہو جائے گا؟

پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ مسٹر یو ٹرن خان کے سوچنے کا طریقہ عجیب و غریب ہے۔عمران خان نے ایک اور یوٹرن لے لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز