زہرہ شاہد قتل کےمجرموں کی سزائےموت عمرقید میں تبدیل

کراچی: پاکستان تحریک انصاف کی سینئیررہنما زہرہ شاہد کےقتل میں سزاپانیوالےمجرموں کی سزائےموت کوسندھ ہائیکورٹ نےعمرقید میں تبدیل کردیا ہے۔

مجرموں کی بریت کی درخواست بھی مسترد کردی گئی ۔ دوہزار تیرہ میں زہرہ شاہد کوانکےگھرکےباہرقتل کردیا گیاتھا۔

متحدہ قومی موومنٹ سےتعلق رکھنےوالے زاہدعباس اوررراشد عرف ٹیلرکوانسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 31 اگست 2018 کو پاکستان تحریک انصاف کی رہنما زہرہ شاہد کےقتل کا الزام ثابت ہونےپرسزائےموت سنائی تھی۔

20 اگست کومجرموں کی اپیل پرسندھ ہائیکورٹ نےفیصلہ سناتےہوئےمجرموں کی بریت کی درخواست کو مسترد کرتےہوئے سزائےموت کو عمرقید میں تبدیل کردیا۔

قتل کےمقدمہ میں نامزد مزید دوملزمان عرفان عرف لمبا اورکلیم کودہشت گردی عدالت نےعدم ثبوت پربری کردیا گیا تھا۔مجرموں نے 18 مئی 2013 کو ڈیفنس فیز4 میں زہرہ شاہد کوانکےگھرکےباہرقتل کردیا گیا تھا۔

مجرموں کو زہرہ شاہد کےڈرائیورنےجج کے سامنے شناخت کرلیا تھا۔زہرہ شاہد کواین اے 250 کے کچھ پولنگ اسٹیشنز پردوبارہ پولنگ سے کچھ دن قبل قتل کیا گیا تھا۔

اس قتل کاالزام اسوقت پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے براہ راست متحدہ قومی موومنٹ کے بانی پرعائد کیا تھا، جس کے بعد پی ٹی آئی اورایم کیو ایم میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔

زہرہ شاہد کے قاتلوں کی گرفتاری  کے لیے مدد کرنیوالےکیلئےمحکمہ داخلہ سندھ نے25لاکھ روپے انعام بھی مقررکیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: زہرہ شاہد قتل کیس: دو مجرموں کو سزائے موت

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز