’بھارت پلوامہ ٹو کرنا چاہ رہا ہے‘

پاک افغان ایکشن پلان کے تحت پانچ ورکنگ گروپس تشکیل دے دیے گئے, دفتر خارجہ | humnews.pk

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ بھارت پلوامہ ٹو کرنا چاہ رہا ہے۔

سینیٹر ساجد میر کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں بدترین انسانی المیہ پیدا ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر حالات بہت کشیدہ ہیں، روزانہ فائرنگ کی جا رہی ہے جس کے باعث ہمارے کچھ جوان شہید ہوئے ہیں۔ بھارت اس معاملے کو دہشتگردی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے پلوامہ ٹو کرنا چاہ رہا ہے۔

بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کا پاک فوج نے بھرپور جواب دیا ہے جس سے کئی بھارتی فوجی ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، سولہ دن ہو گئے ہیں کہ لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے۔ وادی چنار کے ہر گھر کے سامنے ایک فوجی کھڑا ہے جبکہ بھارتی فوج نے چار ہزار سے زائد لوگوں کو جیلوں میں منتقل کر دیا ہے۔

بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے سے چھیڑ چھاڑ بھی کرے گا۔

بھارت سے تعلقات محدود کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ہمسائیہ ملک سے سفارتی تعلقات محدود کیے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کو انسانی حقوق کونسل اور او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں اٹھائیں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز