مقبوضہ کشمیر میں عوامی احتجاج دبانے کے لیے بھارتی کوششیں مزید تیز

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، ملک بھر میں مظاہرے

اسیر حریت قیادت کی جانب سے عوامی احتجاج کی کال کے بعد قابض بھارتی انتظامیہ بوکھلا گئی ہے اور پوری مقبوضہ وادی بشمول سرینگر میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔

عوام کے لیے جبر کی سیاہ رات کو مزید طویل بنانے کے لیے قابض فوج نے  کرفیو کے اعلان کے ساتھ ساتھ  پہلے سے موجود پابندیاں اور بڑھا دی ہیں۔

بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد اسیر حریت قیادت کی جانب سے احتجاج کی پہلی بڑی کال ہے جس میں جمعہ کے بعد عوام کو سرینگر میں قائم اقوام متحدہ کے مشن دفتر کے باہر جمع ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قابض بھارتی انتظامیہ نے سرینگر سیمت دیگر شورش زدہ علاقوں میں اضافی اہلکار تعینات کر دیے اور جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے اور گلیاں بند کردیں۔

ذرائع کے مطابق پچھلے دو ہفتے کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں سے جھڑپ کے نتیجے میں پیلٹ گن اور آنسو گیس سے 152 افراد زخمی ہو گئے ہیں جنہیں علاج کے لیے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

دو دن قبل سرینگر سمیت دیگر علاقوں میں دیواروں پر راتوں رات پوسٹرز نظر ائے جن میں کشمیری عوام کو جمعہ کے بعد سرینگر پیں موجود اقوام متحدہ کے مشن دفتر کے باہر جمع ہونے کا کہا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر کا حل پاکستان اور بھارت مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں، فرانس

جمعہ نماز سے پہلے مقبوضہ کشمیر کی گلیوں، سڑکوں اور محلوں میں گشت کرتی پولیس نے لاؤڈاسپیکرز پر کرفیو کا اعلان کر دیا اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کا کہا گیا۔

دو ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجو قابض انتظامیہ نے کرفیو اور دیگر پابندیوں میں کوئی  نرمی نہیں کی اور پچھلے 18 دن سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

مقبوضہ وادی میں اسکول، کالجز، بڑی مارکیٹس اور شاپنگ مالز بند پڑے ہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کرفیو اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور اشیائے خورونوش اور دواؤں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ پابندیوں کے سبب مریضوں کو ہسپتال لے جانے میں سخت دشواری پیش آ رہی ہے۔

پوری مقبوضہ وادی میں لینڈ لائن، موبائل فون اور انٹرنیت سروس پچھلے 18 دن سے بند ہے اور لوگوں کا آپس میں اور بیرون دنیا سے مواصلاتی رابطہ منقطع ہو کر رہ گیا ہے۔

قابض بھارتی انتظامیہ نے 500 سے زائد کشمیری رہنماوں کو گھروں میں اسیر اور عقوبت خانوں میں قید کر رکھا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز