سندھ سیف سٹی اتھارٹی بل 2019 کی منظوری دے دی گئی

کراچی:سندھ کی صوبائی کابینہ نے ہفتے کو اپنے اجلاس میں سندھ سیف سٹی اتھارٹی بل دوہزار انیس کی منظوری دے دی ہے۔ اتھارٹی کےڈی جی کا تعلق محکمہ پولیس سے ہوگا، سیف سٹی منصوبہ پر دوہزار سولہ میں کام کا آغاز ہوا تھا۔

سیف سٹی منصوبہ 2016 میں 2.7 ارب کی لاگت کا منظور ہوا۔اس پر ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں 12 رکنی کمیٹی قائم کی گئی جس کےاب تک 16 سے زائد اجلاس بلائے جاچکے ہیں۔

26 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ  سید مراد علی شاہ کا کہناتھا کہ منصوبے کے لیے ایک کروڑ روپے رکھے ہیں جب کہ ڈھائی کروڑ روپے پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں۔

وزیراعلی سندھ  گزشتہ دنوں اجلاس میں آئی جی پولیس کو پندرہ دن میں منصوبے کے تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کرچکے ہیں۔پولیس نے انہیں بتایا کہ دس ہزار کیمرے لگانے کا کام شروع کرنے کی تیاری مکمل ہے۔ پروجیکٹ پر کام شروع ہوتے ہی کیمروں کی تنصیب شروع کردی جائے گی۔

صوبائی حکومت اورپولیس حکام کی جانب سے دعوی کیا جاتا ہے کہ کراچی میں اس وقت بائیس سو سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔ان کیمروں کی ریزولوشن صرف دو میگا پکسلز ہے جو ذرا دور کھڑے شخص یا چیز کی نشاندہی کے لئے بالکل بھی کارآمد نہیں ہے۔

سابق ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید نے ایک ملاقات میں صحافیوں کو آگاہ کیا تھا کہ مفتی تقی عثمانی کے پر قاتلانہ حملے کرانے والوں کو 35 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے پتا چلانے کی کوشش کی گئی لیکن کسی ایک بھی کیمرے کی کوالٹی اس قابل نہیں تھی کہ حملہ آوروں کی شناخت کی جاسکے۔

شہر میں سی سی ٹی وی کیمروں کی کمی کے نتیجے میں ہر گزرتے سال جرائم کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ برس کے سات ماہ کے مقابلے رواں سال ہلاکتوں کی تعداد میں 20 فیصد جبکہ موبائل فون چوری اور چھیننے کے واقعات میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز