مسئلہ کشمیر: او آئی سی اور اسلامی ممالک بیانات سے بڑھ کرکردار ادا کریں، شاہ محمود


ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود نے کہا کشمیر میں انسانی المیہ رونما ہونے کو ہے اور او آئی سی سیمت اسلامی ممالک کو چاہیے کہ بیانات سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں۔

ملتان میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ان کا کہنا تھا کہ بھا بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے غنڈے کشمیر میں بھیجنے کی تیاریاں کر رہی جس سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کشمیر کی صورتحال پر غلط بیانی سے کام لے رہا ہے وہاں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی نازک اور پریشان کن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے انے والی اطلاعات تشویشناک ہیں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو چاہیے کو دنیا کے سامنے بھارت کا چہرہ بے نقاب کریں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلامی ممالک کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں، اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے اس پر بیان جاری کیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اس سے بڑح کر کردار ادا کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا ہم نے دنیا کو قائل کیا کہ بھارتی آئین میں تبدیلی اس کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی ہے۔ ہماری کوششوں سے دنیا کا موقف کشمیر کے معاملے پر تبدیل ہو رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اسلامی دنیا بھی اپنا کردار ادا کرے گی۔

مودی کو ایوارڈ دینے کے سوال پر وزیرخارجہ نے کہا کہ یو اے ای کے بھارت کیساتھ اپنے تعلقات ہیں اور میں جلد عرب عمارات کی حکومت کو اصل حقائق سے آگاہ کروں گا، مجھے امید ہے وہ ہمیں مایوس نہیں کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ متعدد بار ثالثی کی پیشکش کر چکا ہے لیکن بھارت سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو معاملے کو حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں۔

وزیرخارجہ کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے جس میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ کو دعوت دی ہے کہ آزاد کشمیر کا دورہ کریں اور ممکن ہوسکے تو مقبوضہ کشمیر جا کر خود صورتحال کا جائزہ لیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کسی کے پاس کوئی آلہ نہیں جس کی مدد سے کشمیر کا فوری فیصلہ ہوجائے یہ ایک طویل لڑائی ہے جو کشمیریوں نے لڑنی ہے اور پاکستانی ان کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کی عوام اور سربراہان کو اس جانب توجہ دینی چاہیے اور ہم سمجھتے ہیں کہ او آئی سی کو بیانات کے علاوہ بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز