حکومت کو زیادہ وقت دینا زیادتی ہو گی، اکرم درانی

حکومت کو زیادہ وقت دینا زیادتی ہو گی، اکرم درانی

فوٹو: فائل

اسلام آباد: حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی کے کنوینئر اکرم درانی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو زیادہ وقت دینا زیادتی ہو گی ان کے لیے ایک سال کا وقت کافی ہے۔

حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی کا اجلاس کنوینئر کمیٹی اکرم درانی کی زیر صدارت اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوا جس میں مسلم لیگ ن کے احسن اقبال، پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر، عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار، طاہر بزنجو سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اکرم درانی نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں فیصلے کے مطابق چارٹر آف ڈیمانڈ دیا گیا تاہم تمام جماعتوں کا اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ ہے جو اگلی اے پی سی میں پیش کریں گے۔

انہوں نے وزیر اعظم کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا خطاب عجیب سا تھا تاہم انہوں نے جمعہ کو نکلنے کا کہا ہے دیکھتے ہیں کتنے لوگ نکلتے ہیں لیکن تاثر تو یہ ہے کہ عمران خان نے پہلے ہی کشمیر بیچ دیا ہے۔

اکرم درانی نے کہا کہ وزیر اعظم کے آج کے بیان سے مایوسی ہوئی ہے جبکہ چین بھی صرف لداخ کی بات کر رہا ہے۔ عمران خان نے خود کہا ہے کہ دنیا میں کوئی ملک اس کے ساتھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ جائز ہے ’’وزیر اعظم مستعفیٰ ہو جائیں‘‘ اور ہمیں لگتا ہے کہ وہ مستعفیٰ ہونے کے قریب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں ملک کمزور کرنے میں حزب اختلاف بری طرح ناکام ہوئی، شبلی فراز

اکرم درانی نے کہا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن کمیشن کو دو نام بھیجے لیکن شرمناک عمل یہ ہے کہ صدر کو بھی طریقہ کار کا معلوم نہیں ہے۔ کیا ہمارے صدر نے آئین کی خلاف ورزی نہیں کی ؟

انہوں نے کہا کہ ملک کے کونے کونے میں تاجر اور وکلا ہڑتال کر رہے ہیں جبکہ ہم نے ایسے حالات تو مارشل لا میں بھی نہیں دیکھے۔ یہاں تو زبان اور سوچ پر بھی تالہ بندی کر دی گئی ہے۔ اس حکومت کے لیے ایک سال کا وقت کافی ہے اور اب حکومت کو زیادہ وقت دینا زیادتی ہو گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز