سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد اب بڑا چیلنج ہو گا، وزیر خارجہ

معاشی سفارتکاری کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، شاہ محمود قریشی

فوٹو: فائل

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کا 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بھی احترام کیا گیامگراب سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد بڑا چیلنج ہو گا۔ 

انہوں نے کہا کہ بھارت نے رواں برس اس باہمی معاہدے کا احترام جاری نہ رکھا اور اس کی بھرپور خلاف ورزی کی۔ بھارت کی آبی جارحیت پاکستان کو درپیش اگلا چیلنج ثابت ہو گا۔ ہمیں اس سے نمٹنے کے لئے بھرپور تیاری کرنا ہو گی۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ان خیالات کا اظہار پارلیمنٹری انسٹیٹیوٹ اسلام آباد میں سیمنار سے خطاب میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ بائیس دن اور 528 اذیت ناک گھنٹے گزر گئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے لوگوں کو بے سبب محصور کئے ہوئے۔ محض کشمیری ہونے کے ناطے بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں لوگوں کو بلا سبب گرفتار کر لیا گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت لیڈرشپ کو گرفتار کر لیا گیا ہے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو چھپانے کے لیے میڈیا پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ہر گھر کے آگے سیکیورٹی فورسز تعینات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ہٹلر کے نازی جرمنی کی نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار بھارتی حکومت کی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں میں کہے گئے استصواب رائے کے پیش نظر ہندوستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ اقدامات کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کی گئی ہے اور اب آبادیاتی تناسب کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں کشمیر کے معاملے پر سب یک زبان ہیں، ایک کروڑ بیس لاکھ لوگوں کو جیل میں محصور کر دیا گیا ہے۔ بچوں کے دودھ خوراک ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیل کر رہا ہے۔ کشمیر میں قابض بھارتی بچوں کو اغوا کر رہی ہے، قابض بھارتی فوج کشمیر میں بد ترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمنٹ نے متفقہ قرار داد کے ذریعے بھارتی یکطرفہ اقدام کو مسترد کیا،سربراہ انسانی حقوق کمیشن او آئی سی اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو خط لکھا، بھارت کشمیر کی تحریک کو دہشتگردی سے جوڑ کر دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی قدامات سے جنوبی ایشیا کے امن کو خطرہ ہے۔ دنیا کشمیر میں بھارتی مظالم پر زیادہ دیر خاموش نہ رہے۔ کشمیر میں بھارتی فوج نے ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا بارہ ہزار خواتین کی عصمت دری کی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مودی نے صدر ٹرمپ کو کشمیر میں سب اچھا کی رپورٹ دی، پاکستان مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیلئے تمام عالمی فورمز پر جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: وزیر خارجہ شاہ محمود کا او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے ٹیلی فونک رابطہ

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز