والد سے ملاقات کیلئے گئی تو پولیس نے دھکے دیئے، آصفہ بھٹو کا الزام

اسلام آباد: سابق وزیراعظم پاکستان محترمہ  بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری  نے الزام عائد کیا ہے کہ  وہ آج عدالت کی اجازت کے ساتھ  اپنے والد سے ملنا چاہتی تھیں مگر پمز انتظامیہ نے مجھے دیکھ کر اسپتال کے دروازے بند کردئیے۔ 

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ  جب وہ اپنے والد سے ملاقات کے لئے اسپتال پہنچیں تو انہوں نے دیکھا کہ اسپتال انتظامیہ نے اس دوران  کسی مریض کو نہ اندر آنے دیا اور نہ باہر جانے دیا۔

آصفہ بھٹو زرداری نے سوال اٹھایا کہ کون سی اتھارٹی اس سلیکٹڈ حکومت کو پورا اسپتال بند کرنے کی اجازت دیتی ہے؟ کون سی اتھارٹی اس سلیکٹڈ حکومت کو مریضوں اور شہریوں کے اسپتال داخلے پر پابندی لگاتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ وہ کسی طرح اسپتال کے اندر پہنچنے میں کامیاب ہوئیں تو سیڑھیوں اور لفٹ پر پولیس والے کھڑے تھے، میں لفٹ کے پاس کھڑی تھی کہ پولیس اہل کاروں نے مجھے والد کے پاس جانے سے روکنے کیلئے انسانی زنجیر بنالی۔

آصفہ بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا کہ مجھے روکا گیا، دھکا دیا گیا، پولیس کی جانب سے ناروا سلوک کیا گیا،

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسی ہوتی ہے مدینے کی ریاست؟

پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری نے کہاہے کہ انتظامیہ کی جانب سے آصفہ بھٹو زرداری کو والد سے ملاقات سے روکا گیا، ملاقات سے متعلق تحریری طور پر درخواست ہمارے پاس تھی، انتظامیہ درخواست وصول کرنے کے لئے تیار ہی نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ڈھونڈتے رہے کہ کوئی عدالتی احکامات کے مطابق موجود تحریری درخواست وصول کرے،جیل انتظامیہ ہمیں نظر ہی نہیں آئی۔پولیس، اسپتال انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنر سمیت کوئی درخواست وصول کرنے کو تیار نہیں تھا۔

پیپلزپارٹی کے  سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ ہماری درخواست پر عملدرآمد ہو۔

یہ بھی پڑھئے: آصف علی زرداری کو پمز اسپتال منتقل کر دیا گیا

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے پمز اسپتال کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ آصف زرداری سے انکی بیٹی سے ملاقات کی اجازت نا ملنا توہین عدالت ہے۔ آپ کسی کو اسپتال کے اندر جانے سے نہیں روک سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کمرہ سب جیل ہے تو پورا اسپتال بند نہیں کر سکتے۔ میں وکیل ہوں میرے پاس اجازت نامہ بھی تھا اور میں سینیٹر بھی ہوں،کسی بھی سینیٹر کا حق ہے کہ وہ اسپتال میں جاکے چیک کر سکتا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مریض کو بیٹی سے نا ملانا اس سے بڑی لاقانونیت نہیں ہوسکتی۔

پیپلزپارٹی پنجاب کے رہنما چوھدری منظوراحمد نے کہاہے کہ آصفہ بھٹو  بیمار والد کی تیمارداری کیلئے گئیں لیکن انہیں باپ سے گلے نہیں ملنے دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ باپ بیٹی کی ملاقات میں اہلکاروں کا بار بار حائل ہونا اخلاقی دیوالیہ پن ہے.بیٹی کو باپ کی شفقت سے محروم کرنا یزیدیت ہے ان گھٹیا ہتھکنڈوں نے ضیاء آمریت کی سیاہ یادیں تازہ کر دیں۔ 
متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز