خصوصی انسداد پولیو مہم کامیابی سے اختتام پذیر

اسلام آباد:  ملک بھر میں خصوصی انسداد پولیو مہم کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ انسداد پولیو پروگرام کے مطابق ملک کے 46 اضلاع میں 71 لاکھ بچوں کو کامیابی سے قطرے پلائے گئے۔

انسداد پولیو پروگرام کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مرتبہ  ملک کے کسی بھی حصے سے تشدد یا بدتمیزی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

بیان کے مطابق پولیو مخالف 48 فیس بک پیجز بلاک کئے گئے۔ انسداد پولیو پروگرام کے مطابق  46اضلاع میں سے 6 ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی بہترین رہی۔

ڈپٹی کمشنر لاہور ، پشاور، صوابی ، کوئٹہ، نوشہرہ اور حیدر آبادکی کارکردگی قابل ستائش ہے۔ افواج پاکستان، پولیس اور دیگر اداروں کی کاکردگی زبردست رہی۔

انسداد پولیو پروگرام کے مطابطق تاریخ میں پہلی بارایف آئی آر درج کیے بغیر انکاری والدین کو قائل کرنا قابل تحسین ہے۔ والدین نے پولیو ورکرز کا استقبال کیا، مستقبل  میں بھی زبردستی اور بندوق کی نوک پر پولیو کے قطرے نہیں پلائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان کی درخواست پر سماجی رابطے کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک نے پولیو ویکسین کے خلاف غلط خبریں پھیلانے والے 31 پپیجز کو بلاک کر دیا ہے۔

ایک رپورٹ مطابق پولیو ویکسین کے خلاف بیمار ذہنیت رکھے والے کچھ افراد نے فیس بک پر باقاعدہ مہم چلا رکھی تھی۔

ان لوگوں نے الزام عائد کیا کہ پولیو کے قطرے پینے کی وجہ سے ایک سال کی بچی کا انتقال ہوا ہے تاہم ڈاکٹرز کی رپورٹ میں ثابت ہوا کہ گلے میں مونگ پھلی کا دانہ پھنسنے کی وجہ سے بچی کی موت واقع ہوئی ہے۔

رواں سال مئی کے مہینے میں حکومت نے فیس بک انتظامیہ سے پولیو ویکسین کے خلاف منظم مہم چلانے والے افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی تھی۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو بابر بن عطا نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایسے تمام عناصر کے خلاف لڑیں گے جو پولیو مہم کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: فیس بک نے پولیو ویکسین کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والے پپیجز کو بلاک کر دیا

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز