سینیٹ اجلاس، جنوبی پنجاب صوبہ بنانے سمیت دیگر بل ایوان میں پیش

اسلام آباد: سینیٹ میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے اور قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نشستوں میں اضافہ سمیت دیگر بلز پیش کیے گئے۔

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ سینیٹر نصیب اللہ بازئی کی جانب سے تجارتی تنظیمیں ترمیمی بل 2019 ایوان میں پیش کیا گیا۔ سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے کہا کہ تجارتی تنظیموں کی مدت ایک سال سے 3 سال کر دی جائے کیونکہ ایک سال میں منتخب صدر کو نظام سمجھ میں نہیں آتا۔

حکومت نے تجارتی تنظیمی ترمیمی بل کی مخالفت کی، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہا کہ اس طرح کا بل سال 2016 میں بھی پیش کیا گیا تھا اس سے چمیبر آف کامرس کے معمولات متاثر ہوں گے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ترمیمی بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے سے متعلق آئینی ترمیمی بل پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے سینیٹرز کی جانب سے ایوان بالا میں پیش کیا گیا۔ سینیٹر بہرہ مند تنگی نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور دیگر تمام جماعتیں بھی جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے پر متفق ہیں۔

چئیرمین سینیٹ نے جنوبی پنجاب کوصوبہ بنانے سے متعلق بل بھی متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا۔

نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم اتھارٹی (نیکٹا) میں ترمیم کا بل سینیٹر عتیق شیخ کی جانب سے ایوان بالا میں پیش کیا گیا۔ سینیٹر عتیق شیخ نے مؤقف اختیار کیا کہ نیکٹا کو جس طرح فعال ہونا تھا وہ نہ ہو سکا۔

حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ نیکٹا کی سالانہ رپورٹ صدر مملکت کو پیش کی جاتی ہے۔

حکومتی مخالفت کے باوجود چئیرمین سینیٹ نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

ادارہ برائے خالص خوراک 2013 میں ترمیم کا بل تحریک انصاف کے سینیٹر سجاد طوری کی جانب سے ایوان میں پیش کیا گیا۔ جسے چئیرمین سینیٹ نے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

بلوچستان کے سینیٹرز نے بھی قومی اسمبلی میں نشستوں میں اضافہ سے متعلق آئینی ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا۔ بل میں آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم تجویز کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں سینیٹ میں ناکامی، پیپلزپارٹی کا اپنے سینیٹرز کیخلاف بڑا فیصلہ

نصیب اللہ بازئی نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہے لیکن قومی و صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کم ہے اس لیے بلوچستان کی احساس محرومی ختم کرنے کے لیے نشستوں میں اضافہ ضروری ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ ظفر الحق نے بل کی مکمل حمایت کرنے کا اعلان کیا۔ چئیرمین سینیٹ نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز