’وکلاء کیلئے اخلاقیات کا پابند ہونا لازمی ہے‘

’عدالت کوئی تھیٹر نہیں ہے آپکو اخلاقیات کا مظاہرہ کرنا ہو گا‘

لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار شمیم احمد خان نے کہاہے کہ وکیل اور جج کا انتہائی مقدس پیشہ ہے، ایک وکیل حق کی خاطر لڑتا ہے اور حقدار کو حق دلواتا ہے تو اس کا بھی اللہ کی بارگاہ میں جج کے برابر مقام ہو گا،وکلاء کیلئے اخلاقیات کا پابند ہونا لازمی ہے۔ 

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سردار شمیم احمد خان نے ان خیالات کا اظہار  پنجاب بار کونسل میں نوجوان وکلاء کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب میں کیا ۔

جسٹس سردار شمیم احمد خان نے کہا کہ  مجھے خوشی ہے کہ سنٹر آف ایکسیلینس قائم ہو رہا ہے اور پنجاب بار کونسل کو اس حوالے سے  مبارکباد دوں گا۔ لاہور سنٹر آف ایکسلینس کیلئے لاہور ہائیکورٹ ای لائبریری کی سہولت فراہم کرے گی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ پنجاب  بار کونسل کے فنڈز کا کیس زیر التواء ہے اس پر جو بھی ممکن ہو سکا لاہور ہائیکورٹ کرے گی۔

سینئیر قانون دان خاور قریشی نے نوجوان وکلاء سے خطاب میں کہا کہ عدالت کوئی تھیٹر نہیں ہے آپکو اخلاقیات کا مظاہرہ کرنا ہو گا،نوجوان وکلاء عدالت میں حقائق کو مختصر مگر جامع انداز میں پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی چیز ہے کہ عدالت میں ایک وکیل جھوٹ نہ بولے اور حقائق نہ چھپائے،بطور وکیل آپ کام عدالت کی معاونت کرنا ہے،جج کے ذہن میں کیس کی مکمل تصویر پیش کرنا ہے۔

خاور قریشی نے کہا کہ عزت بنانے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں مگر اسکو ختم کرنے میں سیکنڈز لگتے ہیں،ہر سائل چاہتا ہے کہ اسکا وکیل اپنا 100 فیصد کام کرے،اگر آپ اپنا کام ایمانداری سے اور نیک نیتی سے کریں گے تو ججز بھی آپکی عزت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک معاشرے کا زوال تب شروع ہوتا ہے جب لوگ اپنی توقع سے کم چیز کو قبول کر لیتے ہیں،جب کوئی آپ سے غلط کرنے کا کہے تو اسے انکار کریں، اگر آپ سسٹم کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو ہر غلط کام کو انکار کریں۔

سینئیر قانون دان نے کہا کہ انگلینڈ میں کوئی کیس ملتوی نہیں ہوتا،برطانیہ میں کوئی بھی پروفیشنل اخلاقی طور پر کیس ملتوی نہیں کرواتا۔ وہاں ایک کیس کا فیصلہ 2 سال میں ہو جاتا ہے، یہاں اتنی دیر میں فیصلہ نہیں ہوپاتا یہ بدقسمتی کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اگر سب کچھ ہم نے کرنا ہے تو نچلی عدالتوں کی کیا ضرورت ہے،چیف جسٹس پاکستان

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز