وزارتِ خارجہ میں قائم “کشمیر سیل” کا پہلا اجلاس

وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر وزارتِ خارجہ میں قائم “کشمیر سیل” کا پہلا اجلاس  وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت ہوا ہے۔ 

اجلاس میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم ،سول و عسکری حکام ،سیکریٹری خارجہ سمیت وزارتِ خارجہ کے سینیئر حکام شریک ہوئے۔

اس خصوصی سیل کے قیام کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلقہ تازہ ترین صورتحال پر غور و خوض کرنا اور ملکی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے پیش نظر ، مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے موثر حکمت عملی وضع کرنے کے حوالے سے ضروری معاونت فراہم کرنا ہے۔

اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، اور پاکستان کی اب تک کی جانے والی سفارتی کاوشوں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کشمیر کونسل کے اجلاس میں سامنے آنے والی تجاویز، چیرمین سینٹ کمیٹی برائے امور خارجہ، اور معزز ممبران پارلیمنٹ کی جانب سے موصول ہونے والی مختلف تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔

دوران اجلاس مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو دنیا بھر میں مختلف فورمز پر اجاگر کرنے کیلئے مختلف پہلوؤں پر مشاورت کی گئی

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کا بیانیہ مسلسل تبدیل ہوتا آ رہا ہے جبکہ پاکستان کا نقطئہ نظر یکساں، واضح، اور دوٹوک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے مسلمانوں کو بھارتی بربریت سے نجات دلانے اور ان کی حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد میں ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی معاونت جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیے: بھارت کی فضائی حدود بند کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا ، شاہ محمود

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز