ملک میں آٹھویں جماعت تک یکساں قومی تعلیمی نصاب نافذ کرنے کا اعلان

ملک میں آٹھویں جماعت تک یکساں قومی تعلیمی نصاب نافذ کرنے کا اعلان

فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیرتعلیم  شفقت محمود نے اعلان کیا ہے کہ پورے ملک میں آٹھویں جماعت تک یکساں قومی تعلیمی نصاب ہو گا اور مدارس سمیت تمام طلبا ایک ہی نصاب پڑھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا مقصد یکساں تعلیمی نظام کا نفاذ ہے۔

ہم نیوز کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم میں بہتری ہمارے منشور کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی نصاب کے لیے صوبوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔

چار سالوں میں شرح خواندگی 70 فیصد تک لے جانا چاہتے ہیں، شفقت محمود

شفقت محمود نے واضح کیا کہ دینی مدارس سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اس ضمن میں مئی، جولائی اوراگست کے مہینوں میں دینی مدارس کے ترجمان کے ساتھ اجلاس بھی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طے پا یا ہے کہ تمام مدارس کے طلبہ آٹھویں، دسویں اورانٹرکےامتحانات دیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر نے کہا کہ آٹھویں جماعت تک تمام اسکولوں میں یکساں تعلیمی نصاب ہو گا جب کہ مدارس اس بات کے مجاز ہوں گے کہ وہ آٹھویں، دسویں اور انٹر کے امتحانات از خود لیں۔

ہم نیوز کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم نے آئندہ کے پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارت تعلیم پورے ملک میں 12 دفاترکھولے گی اور تمام مدارس کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان امور پر آئندہ تین سال میں دو ارب روپے خرچ ہوں گے۔

بیورو کریسی سے ریٹائرمنٹ کے بعد میدان سیاست میں قدم رکھنے والے وفاقی وزیرشفقت محمود نے واضح کیا کہ مدارس کے طلبا کو ڈگریاں دی جائیں گی جب کہ دینی مضامین کا امتحان وفاق لے گا۔

انہوں نے کہا کہ قومی نصاب سے متعلق قوم کو آگاہ کریں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ قومی نصاب دنیا کے کسی بھی دوسرے نصاب سے کم نہیں ہو گا اور معیاری بھی ہوگا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ لوگوں کے خیال میں او اور اے لیول ہی معیار تعلیم کی ضمانت ہے۔

ہم نیوز کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایک کونسل تشکیل دی ہے جو پہلی سے پانچویں جماعت تک نصاب تیار کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو مدارس آٹھویں، دسویں اور انٹر کے امتحانات کے طریقہ کار کو اپنا لیں گے ان کے ساتھ بھرپور معاونت کریں گے۔

جو مدارس رجسٹرڈ نہیں ہوں گے وہ کام نہیں کر سکیں گے، شفقت محمود

علمائے کرام کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدارس کے تمام علمائے کرام قومی فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نصاب میں دینی تعلیم لازمی ہو گی۔

ایک سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ دینی تعلیم کے حوالے سے علمائے کرام سے مشاورت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو اسلامی تاریخ  بھی پڑھائی جائے گی اور نصاب میں وہ سب چیزیں ہوں گی جو اچھے پاکستانی اورمسلمان کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کی تربیت کو اشد ضروری قرار دیا۔

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ریاست نے تعلیمی میدان میں وہ فریضہ سرانجام نہیں دیا جو دینا چاہیے تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز