بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پولیو کے نئے کیسز سامنے آگئے

پشاور: ہزاروں بچوں کو پولیو ویکسین نہیں پلائی جاسکی

فائل فوٹو

چمن: بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ اور خیبر پختوںخوا کے ضلع لکی مروت میں میں پولیو کے دو نئے کیسز سامنے آگئے ہیں۔ 

بلوچستان کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ گردی پینکئی نامی دیہات میں  17ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ بچے کے والدین پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے سے انکاری تھے۔

محکمہ صحت کے مطابق رواں سال قلعہ عبداللہ میں پولیو کیسز کی تعداد3ہوگئی ہے۔

دوسری طرف  ضلع بھر میں انسداد پولیو کا 7 روزہ خصوصی مہم آج تیسرے روز بھی جاری ہے۔  خصوصی مہم ضلع میں پولیو وائرس کے موجودگی کے باعث چلائی جارہی ہے۔

انسداد پولیو مہم کے دوران انکاری والدین اور ان کے بچوں کو قطرے پلانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

ادھر  جنوبی صوبے خیبر پختونخوا میں بھی آج  پولیو کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے۔ ایمر جنسی آپریشن سنٹر کی طرف سے بتایا گیاہے کہ پولیو کیس سرائے نورنگ ضلع لکی مروت میں سامنے آیا ہے۔

محکمہ صحت کے ذرائع کا کہناہے کہ پولیو سے متاثرہ بچی کی عمر 5 ماہ ہے۔ متاثرہ بچی کو حفاظتی قطرے نہیں پلائے گئے تھے۔

رواں سال کے دوران خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز کی تعداد 45 ہوگئی ہے۔ پولیو کیسز کی بڑی وجہ والدین کا بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے سے انکار ہے۔

ایمر جنسی آپریشن سنٹر کے کوآرڈینیٹر کامران آفریدی  نے کہاہے کہ پولیو ویکسین ہر لحاظ سے محفوظ ہے،والدین گمراہ کن پروپیگنڈا پر کان نہ دھریں۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ تمام چیلنجز کے باوجود حکومت پولیو کے مکمل خاتمہ میں پرعزم ہے۔

یہ بھی پڑھیے: رواں سال پولیو کے 53 کیسز سامنے آ چکے ہیں، رپورٹ

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز