’عدالت نے جھوٹ بولنے کا لائسنس جاری کر دیا‘

توہین عدالت کیس، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی طلب

فوٹو: فائل

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ ساری دنیا میں قانون ہے کہ گواہ جھوٹ بولے گا تو مقدمہ ختم مگر 1951 میں لاہور ہائیکورٹ نے کہہ دیا کہ گواہ جھوٹ بول لیں سچ ہم خود تلاش کر لیں گے، سارا معاملہ 1951 کے بعد خراب ہوا،عدالت نے جھوٹ بولنے کا لائسنس جاری کر دیا۔ 

چیف جسٹس پاکستان نے یہ ریمارکس آج سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعےقتل کے ایک کیس کی  سماعت کے دوران دئیے۔

دو پارٹیوں کے تنازع میں قتل سے متعلق کیس کی سماعت میں ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دونوں پارٹیوں میں صلح ہو چکی ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ تیرہ میں سے گیارہ لوگ پہلے ہی بری ہو چکے ہیں،مشتاق احمد اور نور الحق  نامی ملزمان کو بھی شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا اور کہا کہ جب سارا جھوٹ ہو تو سچ تلاش کرنا مشکل ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ دونوں پارٹیوں میں سے ایک ایک کو سزا دی گئی، دونوں پارٹیوں نے اتنا جھوٹ بولا ہے کہ سچ ڈھونڈنا مشکل ہو گیا ہے،اگر اتنا جھوٹ بولیں گے تو ہم فیصلہ کیسے کریں گے؟

انہوں نے کہا کہ اتنے جھوٹ کے بعد کچھ باقی ہی نہیں رہ جاتا،100 میں سے 95 فیصد پورے مقدمے میں جھوٹ بولا گیا،کیس پڑھتے پوئے حیران رہ گیا کہ اتنا جھوٹ کیسے بولا جا سکتا ہے؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نچلی عدالتوں کو کیوں کچھ نظر نہیں آتا؟ ساری دنیا میں قانون ہے کہ گواہ جھوٹ بولے گا تو مقدمہ ختم، 1951 میں لاہور ہائیکورٹ نے کہہ دیا کہ گواہ جھوٹ بول لیں سچ ہم خود تلاش کر لیں گے، سارا معاملہ 1951 کے بعد خراب ہوا،عدالت نے جھوٹ بولنے کا لائسنس جاری کر دیا،عدالت کیسے جھوٹ بولنے کی اجازت کسی کو دے سکتی ہے؟

چیف جسٹس پاکستان نے سوال اٹھایا کہ قانون میں لکھا ہے کہ جھوٹ بولنا جرم ہے،اس وجہ سے سپریم کورٹ نے دوبارہ واضح کیا ہے کہ جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں،کوئی اگر جھوٹ بولے گا تو فائدہ ملزم کو ہوگا،گواہان سن لیں اب اگر جھوٹ بولیں گے تو سزا ضرور ملے گی۔

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ سارا نظام عدل  سچ پر کھڑا  ہے،جو سچ نہیں بول سکتا وہ انصاف بھی نہ مانگے،اللہ کی رضا کی خاطر سچ بولو،قرآن پاک میں ہے کہ سچ بولو چاہیے وہ اپنے والدین،بہن بھائی یا رشتے داروں کیخلاف ہی کیوں نہ ہو۔

چیف جسٹس پاکستان  کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے: پولیس کی گواہی کو ناقابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا،سپریم کورٹ کا حکم

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز