کراچی میں یومیہ کتنا کچرا پیداہوتا ہےاور ٹھکانے کیسے لگایا جاتاہے؟

پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی میں یومیہ کتنا کچرا پیداہوتا ہے اور اُس کو کیسے اٹھایا اور ٹھکانے لگایا جاتا ہےیہ ایک دلچسپ کہانی ہے۔ 

کراچی کے بارے میں اگر یوں کہا جائے کہ یہ  اس وقت کچرے سے بھر چکا ہے تو غلط نہ ہوگا۔وفاقی حکومت، سندھ حکومت اور بلدیاتی ادارے گزشتہ تین ہفتوں سےکراچی کو صاف کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہوتی جارہی ہے۔

چھ اضلاع میں منقسم شہر کراچی میں یومیہ 16ہزار ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے۔ضلع وسطی اور ضلع کورنگی کے علاوہ کراچی کے چار اضلاع سے کچرا اٹھانے کی ذمہ داری سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کی ہے۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ (کےپی ٹی)،ریلوے ،کنٹونمنٹ بورڈ ،سول ایوی ایشن اتھارٹی، فشریزاور پورٹ قاسم کی حدود میں پیدا ہونے والا کچرا کہاں پھینکا جاتا ہےاس بارے کسی کو کچھ نہیں معلوم ۔

سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈکے مطابق شہر کے چار اضلاع سے یومیہ 10ہزار ٹن کچرا جام چاکرو اور ویندر کے مقام پر کچرا ٹھکانے لگانے کے مقام ( لینڈ فل سائٹ )تک پہنچایا جاتا ہے۔

بات کی جائے طریقہ کار کی توگلی محلوں میں بنی کچرا کنڈیوں سے اٹھایا جانے والا کچرا ہر ضلع میں موجود گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن تک پہنچایا جاتا ہے۔ وہاں سے ہیوی ڈمپرز کے ذریعے کچرے کو کی لینڈ فل سائٹ تک پہنچایا جاتا ہے۔

سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کے مطابق عید کے موقع پر ہونے والی بارشوں کے بعد سے اب تک کراچی میں 25ہزار ٹن کچرا موجود تھا۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق شہر کے گنجان آباد علاقوں میں ساڑھے  سات ہزار ٹن کچرا موجود ہے۔  اس کچرے کے باعث شہر میں مکھیوں اور مچھروں کی بہتات ہوچکی ہے۔

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اسپرے مہم کے ذریعے اس صورتحال سے نمٹنے میں تاحال  ناکام نظرآرہی ہے جس کی وجہ سے شہر قائد کے باسیوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کچرا کہانی: 67 ہزار ٹن کچرا کہاں گیا؟ 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز