ایف ائی اے جعلی پوسٹ کرنے والے ملزم تک پہنچنے میں ناکام

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)  کی سائبر کرائم ونگ سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیو پوسٹ کرنے والے مرکزی ملزم تک پہنچنے میں ناکام ہوگئی۔

سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں سینٔٹر روبینہ خالد کے گھر  میں سو کلو سونا موجود ہونے کے حوالے سے جعلی پوسٹ کا معاملہ  اٹھایا گیا تو ایف اآئی اے حکام نے اعتراف کیا کہ وہ طویل تحقیقات کے باوجود جعلی پوسٹ کرنے والے مرکزی ملزم خبیب کو گرفتار کرنے میں ناکام  ہوگئے ہیں۔

کنوینیر کلثوم پروین کی صدارت میں سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس ہوا۔ ایف آئی اے حکام نے پوسٹ کو شیئر کرنے والے سابق پروفیسر ڈاکٹر انور اقبال کو گرفتار کر کے کمیٹی کے سامنے پیش کردیا۔

ڈاکٹر انور اقبال نے قائمہ کمیٹی میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی۔ زیلی کمیٹی نے ڈاکٹر انور اقبال کی معافی قبول کر لی- سینٹ کی زیلی کمیٹی نے ایف آئی اے کو مرکزی ملزم خبیب کی گرفتاری کی ہدایت کردی۔

ڈائریکٹر این آر  تھری سی افضل بٹ  نے زیلی کمیٹی کو بتایا کہ ایجنسی ابھی تک مرکزی ملزم خبیب کا کھوج لگانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیس ابھی بند نہیں کیا تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ڈائریکٹر این آر  تھری سی نے زیلی کمیٹی کو ایف آئی اے کی سائبر کرائم کی کارکردگی پر بریف کیا۔ انہوں  نے ادارے میں کم وسائل کا رونا رو کر ہاتھ کھڑے کر دیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم بہت مشکل حالات میں اپنی زمہ داریاں نبھا رہا ہے، ہمارے پاس کوئی گاڑی ہے اور نا ہی کوئی سہولت۔

افضل بٹ نے سینٹ کی زیلی کمیٹی کو بتایا کہ ایف ائی اے سائبر کرائم میں پہلے 5  تفتیش کار تھے اور اب 15 ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ملازمین  بشمول سویپر ملا کر 113 اہلکار ایف ائی اے میں کام کرتے ہیں۔

ڈائریکٹر این آر تھری سی نے کمیٹی کو بتایا کہ پچھلے 3 سالوں کے دوران سائبر کرائم کے پاس 40 ہزار کیسز آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال میں 15 ہزار کیسز سائبر کرائم کے پاس آتے ہیں۔ ان 15 ہزار کیسز کی تحقیقات کے لیے صرف 15 تفتیشی افسر ہیں۔

ڈائریکٹر این آر تھری سی  نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے لیے ان وسائل میں زمہ داریاں نبھانا آسان نہیں ہے، کسی بھی کیس کا کھوج لگانے کے لیے ہمیں دیگر اداروں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

کمیٹی کے سامنے ڈائریکٹر این آر تھری سی نے اعتراف کیا کہ ہمارے پاس موبائل ڈیٹا تک رسائی بھی نہیں۔ دیگر اداروں کی جانب سے عدم تعاون اور تعطل کے باعث اصل ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کے اپنے لوگوں نے اسمگلرز کیساتھ ڈیٹا شئیر کیا، ڈائریکٹر ایف آئی اے

ان کا کہنا تھا کہ  موبائل سروس فراہم کرنے والی  اور دیگر ٹیلکوز کمپنیاں ہمیں براہ راست رسائی دیں، تبھی اصل مجرم کو پکڑنا آسان ہوگا،  ہم لوگوں کے لیے کام کر رہے ہیں ہمارا کوئی ذاتی کام نہیں ہے۔

افضل بٹ نے زیلی کمیٹی کو بتایا کہ جعلی ٹرانزیکشنز میں ملزم کو بروقت پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔

زیلی کیٹی کے اجلاس میں ایف آئی اے نے انٹیلیجنس بیورو( آئی بی) کے  دائرہ اختیار پر بھی سوال اٹھا دیئے۔

ڈائریکٹر این آر تھری سی افضل بٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ  ٹیلکوز تک رسائی آئی بی کا مینڈیٹ نہیں اس کے باوجود آئی بی کے پاس یہ سہولت ہے ہمیں براہ راست ٹیکلوز تک ائی بھی جیسی رسائی دلوائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا کام ہے مگر لوگوں کی منتیں کرتے رہتے ہیں کوئی جلد جواب نہیں ملتا، یہ سہولت ایف ائی اے کو قانون کے مطابق دی جائے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ  سائبر کرائم کو صرف ای میل کی بنیاد پر رسائی دی گئی ہے، سائبر سیل پی ٹی اے کو ای میل کرتا ہے جسکا وہاں کا افسر جواب دے یا نہ دے یہ ان کی مرضی ہے۔

سینٹ کی ذیلی کمیٹی نے الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والی خبروں کا نوٹس بھی لے لیا۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر چلنے والی غلط خبروں کا بھی تدارک ہونا چاہیے۔

ذیلی کمیٹی کا معاملے کو قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے میں ڈالنے کا فیصلہ۔ قائمہ کمیٹی میں تمام تفصیلات طلب کرلیں۔  سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ قائمہ کمیٹی میں سفارش کریں گے کہ پی ٹی اے سمیت تمام نمائندوں کو طلب کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز