کراچی: کچرے کے ڈھیر ٹھیکے پر دیے جانےکا انکشاف


کراچی: وفاقی وزیربرائے بحری امور سید علی زیدی نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں کچرے کے ڈھیرے ٹھیکے پر دیے کر پیسے کمائے جاتے ہیں۔

ہم نیوز کے پروگرام’ایجنڈا پاکستان‘ میں میزبان عامر ضیا کے ساتھ  کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کچرے کے بڑے بڑے ڈھیر ٹھیکے پر دیے جاتے ہیں جہاں سے افغانی بچے اشیا اٹھا کر فروخت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچرا پھنکنے والی جگہیں ٹھیکے پر دی جاتی ہیں اور پھر جب تک محلے والے آواز نہیں اٹھاتے کچرا نہیں اٹھایا جاتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بارش کے بعد کراچی کا سارا کچرا بندرگاہ کی طرف چلا جاتا ہے اور جب ہماری بندرگاہ گندے ہوں گے تو کاروبار کرنے کون آئے گا۔

نالوں سے کچرا نکال کر باہر سڑکوں پر پھینکنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا سندھ حکومت نے گند پھینکنے کے لیے 11 مقامات کی نام دیے تھے جن میں سے 6 موجود ہی نہیں، کچرا خشک ہونے پر اٹھایا جاتا ہے اور ہم اٹھا رہے ہیں۔

میں عامر ضیاء کے اس سوال پر کہ کچرا اٹھانا مشکل کیوں ہے انہوں نے کہا کہ اس شہر کی تباہی 1980 سے شروع ہوئی اب یہ سیاسی معاملہ بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا نالے صاف کرنے میں ساڑھے چھ کروڑ لاگت آئی ہے جبکہ کے ایم سی کو 55 کروڑ دیے گئے تھے لیکن نتیجہ صفر رہا۔

علی زیدی نے بتایا کہ ایک ٹن کچرا اٹھانے پر 6.50 ڈالر سے لے کر 10 ڈالر خرچ آیا لیکن سندھ حکومت 27 ڈالر لے رہی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کراچی کی 60 سے 65 فیصد آبادی کو منصوبہ بندی کے بغیر بسایا گیا ہے جو سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

سید علی زیدی نے کہا کہ ناصر حسین شاہ کام کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی جماعت میں کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ وہ کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی ایک آدمی اس شہر کے مسائل حل نہیں کرسکتا لیکن کوئی رہنمائی کرنے والا تو ہو۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کو اس علاقے کا بہترین شہر بنانا ہے اور اس کے لیے منصوبہ بندی کی جائے گی۔ گند صاف کرنا ہنگامی مسئلہ ہے۔

بد عنوانی کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر روپے کی کرپشن ثابت ہوگئی تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

وفاقی وزیر نے جہاز رانی کی نئی پالیسی میں تاخیر کے سوال پر جواب دیا کہ یہ آسان کام نہیں تھا، ای سی سی اور کابینہ سے منظوری ہو گئی ہے اور جلد اعلان کیا جائے گا۔

اپنی وزارت کے متعلق سب سے بڑے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایچ آر کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔

کے پی ٹی کی زمین سے متعلق سوال پر علی زیدی نے کہا کہ بہت سارے مقدمات عدالت میں زیر التوا ہیں، پورٹ شہر چلاتا ہے لیکن کراچی کی منصوبہ بندی میں پورٹ انتظامیہ کی کوئی مداخلت نہیں تھی۔

ایل این جی ٹرمینل کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پانچ لوگوں کو جگہ دی اور ہماری ذمہ داری یہیں تک تھی، اس سے آگے حکومت کا کام ہے۔

پاکستان کے سینیئر صحافی عامرضیا کا کہنا تھا کہ کراچی کا کچرا تین بڑی سیاسی جماعتوں کے گلے پڑ گیا ہے اور بد قسمتی یہ ہے کہ کوئی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے ہیں تو منصوبہ بندی کے ساتھ اتفاق رائے بھی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز