کراچی میں جلد پانی اور سیوریج کے مسائل ختم ہو جائیں گے، سعید غنی

اسلام آباد: سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے کراچی میں جلد بڑے منصوبے شروع کر رہے ہیں جس میں پینے کے پانی اور سیوریج جیسے مسائل حل ہو جائیں گے۔

ہم نیوز کے پروگرام ایجنڈا پاکستان میں میزبان عامر ضیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ کراچی کے مسائل حل نہ کرنے کی ذمہ داری ہماری بھی بنتی ہے لیکن بہت سارے مسائل شہریوں کے تعاون کے بغیر حل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ کچرا ڈمپ کرنے کے بجائے سڑکوں کے اطراف میں پھینک دیا جاتا ہے۔ حکومت ہر شخص پر نظر نہیں رکھ سکتی۔ حکومت جتنے وسائل چاہے جھونک دیں لیکن جب تک کراچی کے شہری اپنا کردار ادا نہیں کریں گے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

سعید غنی نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت کراچی میں اپنے وسائل سے زیادہ خرچ کر رہی ہے لیکن جن کی ذمہ داری بنتی ہے وہ مسائل حل کرنے کے بجائے الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پوری کابینہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بیورو کریسی فیصلہ کرنے سے ہچکچا رہے ہیں کیونکہ ان پر نیب کا خوف طاری ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے کراچی میں خطر رقم خرچ کرنے جا رہے ہیں جس سے شہر میں پانی کا مسئلہ بالکل ختم ہو جائے گا۔ شہر میں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی جلد معاملات حل ہو جائیں گے۔ میگا پروجیکٹ ریڈ لائن اور یلو لائن پر بھی جلد کام شروع ہو جائے گا۔

سابق ایڈمنسٹر کراچی فہیم الزماں نے کہا کہ اچھا اور پرسکون شہر آج انتہائی مشکل شہر بن گیا ہے۔ چند سال قبل تک کراچی بہت اچھا شہر تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ کچھ چیزیں گورننس بہتر کرنے سے ٹھیک ہو سکتی ہیں لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کو بہتر کرنے کی ذمہ داری سندھ کی ہے لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی اور اداروں کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں ہے جبکہ وفاق کا بھی شہر کے ساتھ کوئی اچھا رویہ نہیں ہے۔

فہیم الزماں نے کہا کہ کراچی کی آبادی 70 سالوں میں ڈھائی لاکھ سے دو کروڑ پر چلی گئی لیکن اس شہر کی ترقی کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ اس شہر کے لیے سی این جی بسیں لائی گئیں جو کھڑی کر دی گئیں جسے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے چلانے کی کوشش کی گئی۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان لین دین پر معاملات خراب ہوئے جسے عدالت سے اسٹے آرڈر لے لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کو جب تک جدید شہروں کی طرح نہیں چلایا جائے گا اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔ 114 بلین روپے کراچی وفاق کو دے رہا ہے لیکن کراچی پر 60 بلین بھی خرچ نہیں کیے جا رہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ کراچی میں پینے کا پانی نہیں، اسپتالوں میں سہولیات میسر نہیں جبکہ دیگر تمام سہولیات کا ہی فقدان ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس شہر میں امن نہیں ہو گا وہ شہر کبھی ترقی نہیں کر سکتا اور کراچی میں ابھی تک امن نہیں ہے، اسٹریٹ کرائم بہت زیادہ ہیں۔ کراچی کا آخری ماسٹر پلان 1984 کا ہے اس کے بعد کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی جبکہ آبادی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔

فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ کراچی کو ایک ہزار ملین گیلن پانی روزانہ چاہیے لیکن کراچی کو 450 ملین گیلن پانی مل رہا ہے۔ اس شہر کو 25 ہزار سے زیادہ مسافر بسوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے کراچی کے سرکاری اداروں میں کارکنان کی بھرتیاں کیں لیکن وہ شہر کی خدمت کرنے کے بجائے پارٹی کا کام کرتے ہیں۔ جو اداروں کی کارکردگی پر بُرا اثر ڈال رہی ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ پیسوں کے بغیر شہر میں کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ کراچی کے لوگ بھی رقم دینے کو تیار ہیں لیکن اگر وصول کی گئی رقم کام پر خرچ نہیں ہوگی تو لوگوں کا بھی اعتماد خراب ہوتا ہے۔ جس مد میں رقم آئے اسے وہیں خرچ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جو شعبہ جس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اسے ہی حل کرنے دیا جائے گا تو وہ درست ہو گا لیکن اگر تمام معاملات مرکزی سطح سے حل ہوں گے تو مسائل تو پیدا ہوں گے۔

فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ بشریٰ زیدی کے واقعے کے بعد شہر کے حالات مکمل طور پر تبدیل ہو گئے۔ کراچی اپوزیشن شہر جب سے بنا اس کے بعد سے وفاق نے توجہ دینا کم کر دی اور کراچی تباہ ہونا شروع ہو گیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز