خاتون پر تشدد کیس میں گرفتار پولیس افسر سمیت دیگر ملزمان جیل منتقل

وہاڑی کی مقامی عدالت نے خاتون پر تشدد کیس میں گرفتار ایس ایچ او تھانہ لڈن عارف شاہ سمیت 4 ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ تین ملزمان کو پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

خاتون پر تشدد کے الزام میں گرفتار پولیس اہلکاروں کو علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ایس پی انوسٹی گیشن کوثرپروین نے تفتیش میں ڈی ایس پی صدر راؤ طارق ،آئی ٹی انچارج عظیم ،محرر سی آئی اے محمد شوکت کو بے گناہ قرار دے دیا۔

ضلع وہاڑی کی مقامی عدالت نے تین ملزمان ہارون ، فیاض ، محمد زردان کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

عدالت نے ایس ایچ او عارف شاہ ، اے ایس آئی طارق حسین شاہ ، انچارج سی آئی اے امجد اور کانسٹیبل مزمل اقبال جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنےکا حکم دے دیا ۔

واضح رہے کہ  ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت 8 ملزمان کو خاتون پر تشدد کے الزام میں 8ستمبر کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

پنجاب پولیس کے تشدد کا ایک اور ہولناک واقعہ  سامنے آیا جب  تھانہ لڈن کی پولیس  نے خاتون کو چوری کے الزام میں گرفتار کیا اور نجی عقوبت خانہ میں نہ صرف بدترین تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ خاتون کو بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے۔

آر پی او وسیم احمد نے واقعہ کا نوٹس لینے کے بعد پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جبکہ مقدمے میں نامزد ڈی ایس پی، ایس ایچ او، انچارج سی آئی اے اور محرر سمیت 8 ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا۔

مقدمہ میں ملزمان کے خلاف تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں اور تھانہ لڈن کو عوام کے لیے بھی بند  کر دیا گیا۔

واقعہ کے بعد جب آر پی او وسیم احمد تھانہ لڈن پہنچے تو اسی تھانے میں تشدد کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا۔ سبزی منڈی لڈن کے آڑھتی الیاس نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا جس میں اس کا بازو ٹوٹ گیا تھا۔

متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ مقامی زمیندار کاشف خان خاکوانی کے ساتھ اس کا لین دین کا تنازعہ چل رہا تھا اور کاشف خان کے کہنے پر ہی پولیس نے اُسے تشدد کا نشانہ بنایا۔

تبدیلی سرکاری نے پنجاب پولیس کی وردیاں تو تبدیل کر دیں لیکن اصلاحات نہ لائی جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں پنجاب پولیس کا خاتون پر مبینہ تشدد، سر کے بال کاٹ دیے

دوسری جانب آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے لڈن وہاڑی میں خاتون پر مبینہ تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ڈی پی او صدر وہاڑی طارق پرویز کو غیر ذمہ دارانہ رویہ اور نااہلی کے الزامات پر معطل کر دیا۔ طارق پرویز کو سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب پولیس کا ایک اور کارنامہ، کرنٹ لگانے سمیت خاتون پر بدترین تشدد

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز